توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 207 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 207

توہین رسالت کی سزا 207 | قتل نہیں ہے نہیں۔البتہ صرف شرک کا ذکر موجود ہے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی الہ ہم نے تو کبھی کسی کو شرک کی وجہ سے نہ قتل کروایا نہ کسی کو اس کا قتل کرنے دیا۔یہ آپ کی مستقل، متواتر اور ثابت سنت ہے۔قرآن کریم کے مطابق شرک کی سزا کا مسئلہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے کسی بندے کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ کسی کو اس وجہ سے قتل کرے کہ وہ مشرک ہے۔اگر ایسا حکم ہو تا تو ہر وقت سرزمین عرب مشرکوں کے خون سے سرخ رہتی۔خصوصاً فتح مکہ کے بعد کتنے میں مشرکوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی ہوتی۔لیکن ایسا بالکل نہیں ہوا۔بلکہ فتح مکہ کے بعد مشرکین مکہ بھی آنحضرت صلی الی ظلم کے ہمراہ غزوہ حنین میں قبائل ہوازن کے خلاف لڑائی میں شامل ہوئے۔پس یہ اس مذکورہ بالا دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے اور رڈ کرنے کے لئے کافی دلیل ہے۔قبل ازیں امام ابو حنیفہ کے فتوے کا ذکر ہو چکا ہے۔اس میں آپ فرماتے ہیں کہ جب مشرک کو قتل کرنے کا حکم نہیں ہے تو شاتم کو کیوں قتل کیا جائے۔پس قرآن کریم اور سنتِ رسول صل الم ، احادیث صحیحہ اور امام اعظم کے فتوے کے سو فیصد خلاف کسی بے سر و پاروایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔پس ان بے سند اور من گھڑت روایات میں ایک واضح اور ناروا ظلم کا ذکر ہے جو رسول اللہ صلی علی یکم اور آپ کے صحابہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔نعوذ باللہ من ذلک تیسری روایت میں جس واقعے کا ذکر کیا گیا ہے وہ میدانِ کارزار سے تعلق رکھتا ہے۔جنگ میں مبارزت بھی ہوتی ہے اور رزم و ہجو اور تشبیب بھی۔پھر اس میں ہمیشہ فریقین میں سے قتل بھی ہوتے ہیں۔یہ جنگ کا خاصہ ہے۔اس منظر میں دشمن کے کسی مبارز مقتول کو شاتم رسول قرار نہیں دیا جاتا بلکہ وہ محارب ہونے کی وجہ سے اور جنگ کے طبعی نتائج کی بناء پر قتل ہو تا ہے۔