توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 199 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 199

توہین رسالت کی سزا 199 } قتل نہیں ہے عبد اللہ بن ابی بن سلول کی طرف سے کی گئی تو ہین والا واقعہ غزوہ بنی مصطلق کے وقت 5ھ کا ہے۔یعنی ان دونوں واقعات میں کئی سالوں کا فرق ہے۔پھر کس طرح ان دونوں واقعات کے موقعوں پر اس آیت کا نزول ہو سکتا ہے ؟ پس اس آیت کا شان نزول یہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔بے ترتیب اور وضعی کہانی: الصارم میں کعب بن اشرف کی ہجو گوئی اور اس کے جواب میں حضرت حسّان بن ثابت کی ہجو کے ذکر میں لکھا ہے : کعب منے آیا تو اس نے اپنا سامان ابو و داعہ بن ابی صبیرہ سہمی کے پاس رکھ دیا۔اس کی بیوی عاتکہ بنت اسید بن ابی العیص تھی۔اس نے (جنگ بدر میں مرنے والے) قریش کے مرثیہ پر اشعار کہے۔نیز حسان نے اس کے جواب میں وہ اشعار سنائے جن میں آپؐ نے ان اہل خانہ کی ہجو کی تھی جن کے ہاں وہ قیام پذیر تھا۔جب عاتکہ کو حضرت حسان کی ہجو گوئی کی خبر پہنچی تو اس نے کعب کا سامان باہر پھینک دیا اور کہا: ”اس یہودی سے ہمیں کیا سروکار ؟ تم دیکھتے نہیں کہ حسان ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے ؟ یعنی ہماری ہجو کر کے ہمیں بے عزت کرتا ہے۔“ چنانچہ کعب وہاں سے چلا گیا۔كُلَّمَا تَحَوَّلَ عِنْدَ قَوْمٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ عَلَى اللهُ حَشَانًا، فَقَالَ: ابْنُ الاشْرَفِ نَزَلَ عَلَى فُلَانٍ، فَلَا يَزَالُ يَهْجُوْهُمْ حَتَّى نَبَذَ رَحْلَهُ، فَلَمَّا لَمْ يَجِدُ مَأْوَى قَدِمَ مَدِينَةَ “ کہ وہ جب کسی کے پاس قیام کرتا تو رسول اللہ احسان کو بلاتے اور فرماتے کہ کعب فلاں شخص کے پاس ٹھہرا ہوا ہے۔حضرت حسّان اس کی ہجو کہتے اور وہ کعب کا سامان باہر پھینک دیتا۔پس جب اسے کہیں ٹھکانا نہ ملا تو وہ مدینے لوٹ آیا۔“ (الصارم المسلول والاستدلال بقتل کعب بن الا شرف من و جھین صفحه 59:)