توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 178 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 178

توہین رسالت کی سزا جھوٹے راوی اور ” الصارم المسلول 178 }- قتل نہیں ہے کتاب "الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ جو یہاں زیر بحث ہے ، اس کا رُخ کچھ اور ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس میں زمانے کی روش کے زیر اثر استدلالات و اجتہادات ہوئے ہیں یا حالات کا کوئی ایسا دباؤ ہے کہ اس نے سوچ کے دھارے کو رسول اللہ صلی ال نیم کی صفات رحمت و کرم کی سمت بہنے نہیں دیا۔بلکہ اس کے بر عکس جا بجاخون بہانے کی ترغیب دی گئی ہے۔اس تبصرے کی وجہ اور بنیاد یہ ہے کہ قرآن کریم کی حکمیت اور سنت و حدیث رسول کے صحیح ریکارڈ کو چھوڑ کر بنیادی طور پر یہ کتاب بکثرت ایسی روایات پر مشتمل ہے جو مبینہ طور پر وضعی اور جعلی ہیں۔چنانچہ ان روایات اور راویوں پر گزشتہ ائمہ اور علمائے فن نے بڑی مضبوط اور مدلل تنقیدیں کر کے انہیں رڈ کیا ہے۔مثلاً اس کتاب میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ اس میں بیشتر بلکہ اکثر روایات واقدی سے لی گئی ہیں اور پھر بڑے اعتماد کے ساتھ ان پر یہ رائے بھی لکھی گئی ہے کہ : إِن كَانَ الْوَاقِدِئُ لَا يُحْتَجُ بِهِ إِذَا انْفَرَدَ، وَلكِنْ لَّا رَيْبَ فِي عِلْمِهِ بِالْمَغَازِي، وَاسْتِعْلَامِ كَثِيرٍ مِنْ تَفَاصِيْلِهَا مِنْ جِهَتِهِ، وَلَمْ نَذْكُرْ عَنْهُ إِلَّا مَا أَسْنَدْنَاهُ عَنْ غَيْرِهِ - “ (الصارم المسلول۔۔۔۔۔۔زیر عنوان ” والاستدلال بقتل کعب بن اشرف من و جہین » صفحہ 59) کہ واقدی جب تنہا روایت کرے تو اس کی روایت سے حجت نہیں لی جاسکتی مگر اس کے ماہر مغازی ہونے اور اس کی تفصیلات سے آگاہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ہم نے واقدی سے وہی کچھ لے کر ذکر کیا ہے جو ہم نے دوسروں سے باسند نقل کیا ہے۔یعنی واقدی کے بارے میں بالکل درست تجزیہ کیا گیا ہے کہ اس سے حجت نہیں لی جاسکتی مگر اس کے باوجود اس کتاب ” الصارم۔۔۔۔میں اس کی روایات کو کثرت سے لیا بھی گیا