توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 140
توہین رسالت کی سزا 140 } قتل نہیں ہے انہوں نے اس روایت کے ایک راوی عبد اللہ بن موسیٰ بن جعفر کے بارے میں لکھا ہے کہ اگر یہ عبد اللہ بن موسیٰ ہاشمی ہے تو ابن ابی الفوارس نے کہا ہے کہ اس میں شدید تساہل پایا جاتا ہے یعنی لا پرواہی پائی جاتی ہے۔علامہ ابو العباس الہاشمی البرقانی نے کہا ہے کہ وہ ضعیف ہے اور وَلَهُ أُصُولٌ رَدِينَةٌ کہ اس روایت کی بنیاد ٹھوس نہیں ہے۔امام حافظ ذہبی نے لکھا ہے کہ اگر یہ (عبد اللہ بن موسیٰ) وہی ہے تو اس کی پیش کردہ حدیثیں منقطع ہیں۔اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے تو پھر مجھے اس کا علم نہیں ہے۔(منقطع روایت وہ ہے جس کی سند میں صحابی کے علاوہ کوئی اور راوی رہ گیا ہو اور سند کا سلسلہ ٹوٹ گیا ہو۔مطلب یہ ہے کہ اگر یہ راوی وہی ہے جو اوپر کی سطور میں سمجھا گیا ہے تو یہ روایت مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر کمزور ہے۔اور اگر یہ راوی وہ نہیں ہے تو پھر یہ کوئی مجہول الحال راوی ہے، یعنی جس کاروایت وسند کے ائمہ کو علم نہیں۔لہذا روایت کے اصولوں کے مطابق اس راوی کی روایت قابل اعتماد نہیں ہے۔۔اس روایت کا دوسرا راوی علی بن موسیٰ ہے۔اس کے بارے میں لکھا ہے : ” تَكَلَّمُوا فیہ “ کہ اس کے بارے میں لوگوں نے کلام کیا ہے یعنی اعتراض کئے ہیں۔علامہ ابن طاہر نے کہا ہے " يَأْتِي عَنْ أَبِيْهِ بِعَجَابِب۔“ کہ وہ اپنے والد کی طرف سے عجیب عجیب باتیں لاتا ہے۔امام ذہبی نے کہا ہے کہ ” إِنَّمَا الشَّأْنُ فِي ثُبُوْتِ السَّنَدِ وَإِلَّا فَالرَّجُلُ قَدْ كُذِبَ عَلَيْهِ وَ وُضِعَ عَلَيْهِ نُسْخَةٌ سَابِرَةٌ كَمَا كُذِبَ عَلَى جَدِهِ جَعْفَرَ الصَّادِقَ۔کہ سند کا ثبوت محل نظر ہے۔یا