توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 139
توہین رسالت کی سزا 139 } قتل نہیں ہے بعد ایک ایسی سند کے ساتھ ظاہر ہوئی ہے جس پر ائمہ فن روایت نے واضح بحث کے ساتھ اسے رڈ کیا ہے۔نیز یہ ان روایات میں سے بھی نہیں ہے جو بعد کے زمانوں میں اہل اللہ اور اولیاء اللہ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللی کم سے بذریعہ کشف سنیں۔امام طبرانی کی تصنیف المعجم الصغیر کے بعد معروف کتابیں مثلاً المعجم الاوسط، الشفاء، فوائد ، الاربعین المرتبة على طبقات الاربعین، تاریخ دمشق (ابن عساکر)، تاریخ بغداد، مجمع الزوائد الفردوس بمأثور الخطاب، المواهب الله نیه ، سبل الهدی، الفتاوی الکبرای اور الصارم المصلول و دیگر سب کتابیں جو اس روایت کو لئے ہوئے ہیں چوتھی صدی کی یا اس کے بعد کی ہیں۔بالفرض اگر یہ روایت واقعہ حضرت علی کی اپنی روایت کردہ تھی اور ایک شرعی مسئلہ کی حامل تھی تو اسے احادیث کے اولین درجہ کی صحاح میں درج ہو جانا چاہئے تھا۔حضرت امام حسین اور حضرت علی دونوں کبار صحابہ میں اور اولین اہل بیت میں سے تھے۔ان کی روایت تو اپنے استناد اور علم روایت و درایت کے اعتبار سے مرفوع متصل اور انتہائی اعلیٰ درجہ کی روایت ہونی چاہئے تھی۔مگر یہ ایسی نہیں تھی۔اس لئے اس پر ائمہ فن کی اکثریت نے بحث کر کے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔روایت کی سند کی حیثیت اس روایت پر فن روایت اور علم اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کے چوٹی کے علماء نے بخشیں کی ہیں۔جن میں سے چند ایک امام ملا علی قاری نے کتاب الشفاء‘ کی شرح میں درج کی ہیں، جو حسب ذیل ہیں۔