توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 127 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 127

توہین رسالت کی سزا 127 } قتل نہیں ہے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ آیت 24 میں باپ ، بیٹوں، بھائیوں، جیون ساتھیوں، رشتہ داروں، اموال، تجارتوں اور گھروں وغیرہ کے لئے جذبات پر اللہ اور اس کے رسول کو ترجیح دینے کی ترغیب دلائی ہے۔اسی طرح رسول اللہ صلی علی ایم نے فرمایا ہے: " أَنْ يَكُونَ اللهُ وَرَسُولُهُ احَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ( بخاری کتاب الایمان باب حلاوة الایمان) که انسان ایمان کی حلاوت حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ اور اس کا رسول اسے ہر رشتہ اور ہر چیز سے زیادہ محبوب نہ ہو۔پس حضرت ابو بکر نے قتل و خون کی بات نہیں کی بلکہ اختیار محکم اور جذبات محبت و احترام کی بات کی ہے کہ ایسے جذبات رسول اللہ صلی ال نیلم کے علاوہ کسی اور کے لئے نہیں ہونے چاہئیں۔ہمارا یہ استدلال اس لئے درست ہے کہ خود آنحضرت صلی للی نیلم نے حضرت ابو بکر کو بھی گستاخی کرنے والے کو قتل کرنے کی اجازت نہیں فرمائی تھی۔چنانچہ ' الصارم۔۔۔۔۔صفحہ 28 پر لکھا ہے کہ ”اَنَّ اَبَا قَحَافَةَ شَتَمَ النَّبِيَّ عليها الله فَاَرَادَ قَتْلَهُ وَأَنَّ ابْنَ أَبَيَّ تَنَقَصَ النَّبِيَّ عليه فَاسْتَاذَنَ ابْنُهُ النَّبِيَّ عل الله في قَتْلِهِ لِذلِك " کہ ابو قحافہ (حضرت ابو بکر کے والد ) نے رسول للہ صلی الم کو گالی دی تو آپ نے ان کو قتل کرنا چاہا۔اور عبد اللہ ابن ابی نے رسول اللہ صلی ایم کی تنقیص کی تو اس وجہ سے اس کے بیٹے نے آپ سے اسے قتل کرنے کی اجازت طلب کی۔تاریخ سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ ان دونوں مواقع پر رسول اللہ صلی نیلم نے ان دونوں شخصوں کو اپنے باپوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی اور وہ دونوں شاتم کبھی بھی قتل نہیں کئے گئے۔اس بارے میں حضرت ابو بکر کے سامنے رسول اللہ صلی للی کم کا نمونہ اور فرمان براہِ راست موجود تھا۔اور وہ یہ تھا کہ کسی بھی ہستی کے لئے بے اختیاری کے جذبات کی ایسی انگیخت