توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 96 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 96

توہین رسالت کی سزا { % ) 96 قتل نہیں ہے کے الزام والی روایت پر آپ نے جو عنوان باندھا ہے وہ آیت قرآنیہ " وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً (النساء: 126) إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتَا لِلَّهِ حَنِيفاً “ (النحل: 121) اور ” إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لاواة حَلِية (التوبة: 115) ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنایا۔آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور اس کی طرف جھکے رہنے والے تھے۔آپ بہت نرم دل اور بُردبار تھے۔یعنی آپ نے ہر قاری کو یہ پیغام دیا ہے کہ تین جھوٹوں والی اس روایت کو ان مذکورہ آیات کی روشنی میں پرکھ لو۔ممکن ہو تو قرآن کریم سے اس کی تطبیق کر دیا تحقیق کا حق ادا کر کے اس کی قرآنی آیات کے مطابق اچھی تاویل کرو ورنہ اسے ترک کر دو کیونکہ قرآن کریم مقدم ہے اور ہر روایت پر حکم ہے۔یہاں بھی آپ نے زیر بحث روایت پر تفصیلی آیات کا گلدستہ رکھ کر محقق کے لئے تحقیق کے دروازے کھول دیئے ہیں تاکہ وہ ان آیات قرآنیہ کے تحت اپنی تحقیق یا تأویل کو ڈھال لے۔اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو اس روایت کو ر ڈ کر دے۔تیسری بات یہ ہے کہ یہاں ایک عجیب اور دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آتا ہے کہ آیاتِ قرآنیہ کے ذریعے امام بخاری کے کھولے ہوئے تحقیق کے ان دروازوں میں داخل ہوتے ہی اس روایت کے بنیادی راوی عکرمہ سے ملاقات ہو جاتی ہے۔تاریخی حقائق سے ثابت ہے کہ عکرمہ خود ایک بد عقیدہ خارجی شخص تھا۔لہذا اس سے حضرت علیؓ کے حق میں کسی خیر کی توقع نہیں ہو سکتی تھی۔پس اس کے تعارف کے بعد اس روایت کے جھوٹ میں کسی اور تحقیق کی ضرورت نہیں رہتی۔لیکن قبل اس کے کہ ہم عکرمہ کے تعارف میں اتریں، یہ ذکر بھی کرتے چلیں کہ روایات اور ان کی اسناد کی جرح و تعدیل پر مشہور محقق مولانا عبد الحئی لکھنوی اپنی مایہ ناز کتاب الرفع والتعميل في الجرح والتعدیل“ میں تحریر کرتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔اسی لئے امام بخاری نے ان لوگوں میں سے بھی بہتوں سے بغیر جرح کے دلیل لی ہے۔مثلاً عکرمہ مولیٰ ابن عباس، اسماعیل