تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 90

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 12 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اس لئے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں اس تحریک کو آپ تک پہنچا کرختم کرتا ہوں۔کتنا دیں؟ کیسے دیں؟ اور کیا دیں؟ اس مفہوم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔آپ فرماتے ہیں:۔تم اے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے، میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو“۔عجیب الفاظ سے یاد کیا ہے آپ کو اور مجھے اور ہم سب کو۔عجیب شان ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا نے کیسا جذب کا کلام عطا فرمایا ہے۔کون ہے جو کہہ سکتا ہے کہ جھوٹے کی زبان کے یہ کلمات ہیں۔سچ کے دل کے سرچشمے سے پھوٹنے والی صداقت ہے۔فرماتے ہیں:۔" تم اے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت کی سرسبز شا خو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے، میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی، اپنا آرام، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں ، تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے۔اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے، دریغ نہیں کرو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عظیم مقام ، جس کا اس زمانے میں اکثر لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے۔لیکن میں آپ کا ایک ادنی غلام در غلام ہوں، میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نمائندگی میں دعوے سے یہ کہتا ہوں کہ جماعت میں آج بکثرت ایسے موجود ہیں، جن پر آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فقرہ صادق آتا ہے کہ: میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں ، تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے۔اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے، دریغ نہیں کرو گے۔لیکن میں اس خدمت کے لئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا۔تاکہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں“۔فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 34) لیکن یہ فریضہ تمام قوم میں مشترک ہے اور سب پر لازم ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو اخلاص اور قربانی کی راہوں میں ہمیشہ آگے سے آگے بڑھاتا چلا جائے اور تصدیق کے نتیجہ میں خدا کی راہ میں رزق خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور اسی کے نتیجہ میں پھر فضلوں کی بارش برساتار ہے۔ہم تصدیق کی کھٹی کھانے والے ہوں، تکذیب کی کھٹی کھانے والے نہ ہوں۔آمین۔خطبات طاہر جلد 14 صفحہ 605 تا 625 ) | 90