تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 87

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 12 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد میرے گزشتہ خطبہ جمعہ کے نتیجہ میں بعض لوگوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ بے مثل ہے تو عیسائیت بھی تو بے شمار مالی قربانی کر رہی ہے۔اس قربانی کو پھر بے مثل کیسے کہہ سکتے ہیں؟ اصل واقعہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ سطحی نظر سے ایک جائزہ لے لیتے ہیں، ان میں تجزیے کی توفیق نہیں ہوتی۔کسی ملک میں بھی عیسائیت کی مالی قربانی کا جماعت احمدیہ کی مالی قربانی سے موازنہ کر کے دیکھیں تو اتنا نمایاں بنیادی اور امتیازی فرق ہے کہ کسی مشابہت کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔افریقہ ہے، جہاں عیسائیوں نے عیسائیت کو فروغ دینے کے لئے ارب ہا ارب روپیہ خرچ کیا ہے۔مگر جو عیسائی پیدا کئے، وہ عیسائیت کے لئے خرچ نہیں کر رہے۔وہ پیسے کھا کر عیسائی ہورہے ہیں۔جو نتیجہ پیدا کیا ہے، وہ انسانیت کے تقاضوں کے بالکل برعکس نتیجہ پیدا کیا ہے۔اور تنگی کے پیسے اور انتہائی دکھ کی حالت میں آج کے زمانے میں عیسائیت میں انفاق کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ ایک تو پرانے زمانوں میں حکومتوں میں چرچ کا بہت دخل تھا اور عیسائی چرچ غیر معمولی طور پر دولت مند ہو گیا ہے۔اور دوسرے ان میں ایسی بے شمار بوڑھی عورتیں مرتی ہیں، جن کی اولاد نہیں ہوتی لیکن بے شمار دولت ہوتی ہے اور وہ مرتے وقت اپنا پیسہ چرچوں کو دے جاتی ہیں۔لیکن جہاں تک ان کے عوام الناس کا تعلق ہے، نکال کے تو دکھا ئیں ، دس احمدیوں کے مقابل پر جن کی قوموں کی لاکھ تعداد وہ دس کے مقابل پر دس بھی نہیں دکھا سکتے، جن میں جماعت احمدیہ کے غرباء کی طرح مالی قربانی کی روح پائی جاتی ہو۔جماعت احمدیہ نے افریقہ کو مسلمان بنایا تو چندہ دینے والا مسلمان بنایا اور قربانی کرنے والا مسلمان بنایا۔اور ساری جماعت قربانی میں شامل ہو گئی۔جس ملک میں بھی جماعت داخل ہو رہی ہے، وہاں خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے پیدا کر رہی ہے۔اور بھی کئی فرق ہیں مگر یہ ایک ایسا بنیادی اور نمایاں فرق ہے کہ ہم بلاشبہ سر بلند کر کے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ساری دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی جماعت کے مقابل پر مالی قربانی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔وو۔اب میں آپ کو دو خوشخبریاں بھی دیتا ہوں اور ایک نئی تحریک کا اعلان بھی کرتا ہوں۔دو خوشخبریاں یہ ہیں کہ فرانسیسی ترجمہ قرآن کریم کے بعد اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اسی سال روسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ بھی پریس میں دیا جارہا ہے۔صابر صدیقی صاحب، جو ہمارے رشین زبان کے ماہر ہیں اور رشین زبان کے ایک اور احمدی طالب علم خاور صاحب، ان دونوں کے سپر د میں نے نگرانی کی تھی کہ اس کو دوبارہ دیکھ لیں، ایک دفعہ۔انہوں نے کل مجھے اطمینان دلایا ہے کہ خدا کے فضل سے یہ ترجمہ ہر پہلو سے 87