تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 873
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد صف ارشادات فرموده دوران مجالس عرفان 1986ء روشنی میں اٹھایا تھا، جن میں یہ حکم ہے کہ تم پر حج صرف اس وقت فرض ہے، جبکہ تمہارا راستہ محفوظ ہو۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے لئے اس وقت حج کا راستہ محفوظ نہیں تھا، اس لئے آپ نے مکہ کی جانب ایک قدم بھی نہیں اٹھایا۔ہم بھی جب تک راستہ ہمارے لئے صاف نہ ہو جائے ، آنحضرت صلی اللہ وسلم کی سنت کی پیروی کرتے جائیں گے۔اور ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جو سلوک، اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے تھا ، وہی اب انشاء اللہ ہمارے ساتھ ہوگا“۔حضور نے مزید فرمایا:۔" آپ کو معلوم ہے کہ حج کیوں کیا جاتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حج اگر قبول ہو جائے گا تو تمہارے ماضی کے تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ قبول نہ فرمائے تو یہ ایک بیکار اور ناکام کوشش ہے۔وہ حج ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجبوری کی وجہ سے نہ کر سکے، اصولاً اس کا ثواب ان کو نہیں ملنا چاہئے تھا۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سورۃ الفتح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے اس حج کے متعلق فرماتا ہے، جو آپ ادا نہ کر سکے، اے اللہ کے نبی اللہ کی خاطر حج سے باز رہنے کا ثواب یہ ہے کہ حج کرنے کی صورت میں صرف تمہارے ماضی کے تمام گناہ معاف ہوتے تھے، اب میں نے تمہارے وہ گناہ بھی معاف کر دیئے ہیں، جو آئندہ ہونے والے تھے۔نیکی صرف ظاہر طور پر کرنے یا نہ کرنے کا نام نہیں۔بلکہ نیکی کی اصل جڑھ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور رضا کے سامنے سر جھکانا ہے۔اللہ تعالیٰ بعض اوقات کسی کام کی نیت کرنے سے ہی اس کام کو قبول کر کے اس کا ثواب دے دیتا ہے“۔فرمایا:۔مجھے پورا یقین ہے کہ جب تک سعودی حکومت احمدیوں کو حج کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔مجھے ان لوگوں کے حج کے قبول ہونے میں شک ہو سکتا ہے، جو وہاں حج کرنے جاتے ہیں۔لیکن مجھے ان احمدیوں کے حج کے قبول ہونے میں کوئی شک نہیں، جو حج کرنے کی تڑپ دل میں رکھتے ہیں اور بوجہ پابندی کے وہاں نہیں جاسکتے“۔( مطبوعہ ہفت روزہ النصر 25 مارچ 1988ء) 873