تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 863
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 11 دسمبر 1987ء کے سواد نیا میں کوئی کسی کو تبلیغ نہ کر سکے۔اس لئے یہاں شرط یہ رکھ دی و استغفر لذنبک کامل طور پر حسین عمل تمہیں نصیب نہیں بھی ہوئے تو استغفار تو کرو، اپنی کمزوریوں کی طرف توجہ تو کرو۔یہ تو سوچا کرو کہ تم میں کیا کیا خامیاں ہیں؟ اپنے اندرونے کی طرف نگاہ رکھو اور پھر خدا سے مدد مانگتے رہو۔اگر تم یہ کرنا شروع کر دو تو پھر تمہاری دعوت میں طاقت پیدا ہو جائے گی۔کیونکہ اس کے نتیجے میں پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ فتح کا دن لازماً آئے گا۔استغفار کا نصیحت کے ساتھ ایک اور بھی بڑا گہرا تعلق ہے، جسے اکثر لوگ بھلا دیتے ہیں۔وہ لوگ جن کی نظریں دوسروں کی برائیاں تلاش کرنے کی طرف رہتی ہیں، وہ نصیحت کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ان کی باتوں میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے، وہ تلوار کی طرح کاٹنے والی باتیں ہوتی ہیں، وہ زہر سے سارے وجود کو بھر دیتی ہیں اور جس کو بھی وہ نصیحت کرتے ہیں، اس نصیحت سے وہ تکلیف پہنچاتے ہیں، اس کی اصلاح کی اہلیت نہیں رکھتے“۔اس لئے نصیحت کس کی کامیاب ہوتی ہے اور کس کی نہیں ہوتی ؟ اس کا راز یہاں بیان فرمایا گیا۔وہ لوگ، جن کی نظر اپنے تک رہتی ہے، اپنی برائیاں تلاش کرتے رہتے ہیں، اپنی کمزوریاں دیکھتے رہتے ہیں اور خدا سے مدد مانگتے رہتے ہیں کہ اے خدا! ہم تو بہت ہی کمزور ہیں، بہت ہی گناہ گار ہیں، جو کام تو نے سارے عالم کو نصیحت کرنے کا ہمارے سپرد فرما دیا، اس کام کی ہم اہلیت نہیں رکھتے۔کیونکہ ہم اندر سے داغدار ہیں اور تجھ سے بہتر اور کوئی نہیں ہے، جو ہمارے گناہوں پر نظر رکھتا ہے اور ہمارے گناہوں کو جانتا ہے۔اس لئے تیرے حکم کے تابع ہم نصیحت کر رہے ہیں۔اس زعم میں نصیحت نہیں کر رہے کہ ہم نصیحت کے اہل ہیں۔تیرے ارشاد کی تعمیل میں ہم دعوت الی اللہ کے لئے نکلے ہیں۔اس برتے اور اس زعم پر نہیں کہ ہم اتنے ولی اللہ بن چکے ہیں کہ ہم لوگوں کو اپنی طرف بلائیں۔یہ جو انکسار ہے طبیعت کا، یہ دعوت الی اللہ میں طاقت پیدا کرتا ہے۔یہ انکسار جو ہے طبیعت کا ، یہ استغفار کی طرف کثرت سے مائل کرتا ہے۔اور ایسا انسان ، جو مؤثر داعی الی اللہ بنا چاہے، اس نکتے کو نظر انداز کر کے وہ بھی مؤثر داعی الی اللہ نہیں بن سکتا۔آپ کے اندر جو Humility ،انکسار ہونا چاہئے ، جس سے بات میں اثر پیدا ہوتا ہے اور بات میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے، اس مضمون کی طرف خدا نے توجہ فرمائی ہے کہ و استغفر لذنبک ہمہ وقت، ہر دم اپنے گناہوں کی طرف متوجہ رہ اور خدا تعالیٰ سے ان کی بخشش کے لئے طلب گار رہ۔اس کے نتیجے میں تسبیح وتحمید کا مضمون خود بخود 863