تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 857 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 857

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 1987ء کی جماعتوں نے۔اور نتیجہ یہ نکلا کہ مجالس عاملہ کے اجلاسات اگر ہوتے بھی ہیں، یہ نہیں مجھے پتا کے با قاعدگی کے ساتھ ہوتے بھی ہیں کہ نہیں؟ اگر ہوتے بھی ہیں تو اس سنجیدگی کے ساتھ ان مسائل پر غور نہیں کیا جاتا۔چنانچہ اس سفر کے دوران میں ان کو متوجہ کرتا رہا ہوں کہ جب خلیفہ وقت کی طرف سے کوئی بات آپ کو پہنچائی جائے، اس میں حکمت ہوتی ہے، اس میں ایک فائدہ ہوتا ہے۔اس کو نظر انداز کرنے سے آپ بہت سی سعادتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔اور جو کھی کھلی بر سر عام ہدایت دی گئی ہے، اس کی خلاف ورزی کرنا تو ایک قسم کا باغیانہ رجحان ہے۔تو نظام جماعت کے نمائندہ لوگوں کا فرض بن جاتا ہے کہ جب بھی کوئی ایسی ہدایت دی جائے اس کے اوپر عمل کرنا شروع کریں۔اور اس سعادت کے نتیجے میں ہی خدا ان کو بہت ساری نیکیاں نصیب فرمائے گا، بہت ساری نئی نیکیوں کی توفیق عطا فرمائے گا، ان کی کوششوں کو مزید بہتر پھل لگنے شروع ہو جائیں گے۔اس لئے میں یہ دوبارہ یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ یورپ میں بھی اور امریکہ میں بھی لیکن ساری دنیا میں تمام دنیا کی جماعتیں اس بات پر پابندی کے ساتھ قائم ہو جائیں کہ ہر مہینے ایک دفعہ مجلس عاملہ میں ان باتوں پر غور کیا جائے کہ کہاں تک جماعت دعوت الی اللہ کا کام کر رہی ہے؟ جہاں نہیں کر رہے، وہاں کیوں نہیں کر رہے؟ اور کون سے ایسے ذرائع ہمیں اختیار کرنے چاہئیں، جن کے نتیجے میں دعوت الی اللہ کا کام تیز ہو سکے اور معنی خیز ہو سکے۔پس اگر ہم اس سنجیدگی کے ساتھ کام کریں گے تو مجھے یقین ہے کہ بہت تیزی کے ساتھ دنیا میں انقلاب پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔سائنس سے جو لوگ واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ بعض امور میں رفتار معنی خیز ہوا کرتی ہے۔کتنے قدم طے کئے ہیں، یہ بات معنی خیز نہیں ہوتی۔بلکہ رفتار کیا ہے، آگے بڑھنے کی۔جو جماعتیں نظریاتی طور پر اور روحانی طور پر دنیا پر غالب آیا کرتی ہیں، ان پر بالخصوص یہ اصول کارفرما ہوتا ہے کہ آگے بڑھنے کی رفتار کیا ہے؟ کتنے احمدی ہورہے ہیں سال میں؟ کتنے مسلمان بن رہے ہیں؟ یہ بحث نہیں ہے۔جو کچھ ہمارے پاس ہے، ہمارے آگے بڑھنے کی رفتار کیا ہے؟ یہ ہے، اصل فیصلہ کن بات۔اس پہلو سے ہماری رفتار میرا اندازہ ہے کہ پچاسی گنایا نوے گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔کیونکہ زیادہ سے زیادہ جماعت کے دس فیصدی حصے کو ہم فعال داعی الی اللہ قرار دے سکتے ہیں۔اور یہ بھی میں نے بہت بڑی چھلانگ لگائی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگر میں حقیقی جائزہ پیش کروں، چند تجربوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے تو شاید پانچ فیصدی بھی نہ ہوں۔لیکن بعض ممالک پر میں حسن ظنی کرتا ہوں مثلاً افریقہ میں نسبتا زیادہ لوگ کر رہے ہوں گے۔857