تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 849
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 1987ء لوگ رکے نہیں اور چلے آئے۔اور خدا کے فضل سے بہت ہی نیک اثرات ظاہر ہوئے اور بڑے اچھے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔بعض جگہ تو ایسی شکل تھی کہ ایک خاوند ہیں بڑے قابل پاکستانی اور یجن کے یعنی خاوند میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آگے بیوی کا ذکر اس رنگ میں آنے والا ہے کہ ان کا تعارف خاوند کے طور پر ہی ہونا چاہئے ، وہ اپنے بیوی بچوں کو احمدیوں سے ملنے سے روکا کرتے تھے اور کبھی بھی تقریبات میں آنے نہیں دیتے تھے۔ان کے گھر میں کوئی عزیز بیمار ہو گیا تو چونکہ عورتوں میں زیادہ توجہ ہوتی ہے دعا کی طرف بالعموم یہ دیکھا گیا ہے، خصوصاً بچوں کے معاملے میں زیادہ تر۔پھر وہ ہر تعصب کو بالائے طاق رکھ کر جہاں سے بھی ان کو امید ہو کہ دعا کے نتیجے فائدہ ہو سکتا ہے، وہ کوشش کرتیں ہیں۔تو ان کی بیوی اس خیال سے کہ شاید ان کی دعا سے ہمارے بچے بچی کی مراد پوری ہو جائے ، ٹھیک ہو جائے ، وہ تشریف لے آئیں، ہماری ایک مجلس سوال و جواب میں۔اور ان کے ساتھ ان کی ایک بچی بھی تھی۔اور اس کے بعد پھر ملاقات کی۔پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ ہمارا مسئلہ ہے، اس میں دعا بھی کریں اور اگر دوا بھی ہو سکتی ہے تو وہ بھی دیں۔ان کے ساتھ جو بچی تھی، اس کو ایک اپنی چھوٹی سی معصوم سی ایک تکلیف تھی ، یعنی ایک خواہش تھی اور ایک تکلیف تھی ، اس کا اس نے ذکر کیا۔اس نے کہا کہ کافی عرصہ سے مجھے یہ پریشانی ہے تو میرے لئے بھی دعا کریں اور اللہ تعالی کی ایسی شان اس طرح ظاہر ہوئی، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نتیجے خدا ظاہر فرماتا ہے۔کس طرح خدا نے ان کے خاندان کا دل بدلنے کے لئے انتظام کئے کہ دوسرے دن ہی اس بچی کی وہ خواہش، جس کے پورے ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے ، وہ پوری ہوگئی۔اور جس رنگ میں ہوئی، وہ حیرت انگیز تھا۔چنانچہ جب اس کے والد کام سے واپس آئے تو اس وقت اس نے یہ راز کھول دیا، ان کے سامنے کہ آپ تو منع کیا کرتے تھے اور یہ واقعہ ہوا ہے۔ہم وہاں گئے ہیں اور یہ باتیں سنیں۔اور پھر یہ دعا کروائی اور یہ دیکھ لیں کہ یہ خدا کے فضل سے پوری بھی ہوگئی۔تو ان کے والد کا فون آیا، اس بچی کے والد کا کہ انگلی مجلس میں، میں بھی شامل ہونا چاہتا ہوں۔چنانچہ نئی دوسری مجلس، جو غیروں کے لئے تھی۔خصوصیت سے غیروں سے مراد ہے، غیر مسلموں کے لئے بعض اس میں پاکستانی بھی تھے ، ان کو بھی بلا لیا گیا۔اور اللہ کے فضل سے نتیجہ یہ نکلا کہ جب میں وہاں سے ( لاس اینجلس کی بات ہے ) سان فرانسسکو گیا تو انہوں نے اپنے بھائی کو جو وہاں رہتے تھے، فون کر کے یہ تاکید کی کہ وہ مجھ سے ضرور ملیں اور اپنی فیملی کو لے کے آئیں۔چنانچہ انہوں نے بھی وقت لیا اور ان سے بھی اچھی گفتگو ہوئی۔تو ہر جگہ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے دلوں پر تصرف فرما ر ہا تھا۔اور بہت ہی نیک نتائج اس کے ظاہر ہوتے چلے گئے۔کئی جگہ شروع میں ملنے والوں کا رویہ جارحانہ تھا۔ان میں عیسائی بھی تھے اور دوسرے 849