تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 821
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 06 نومبر 1987ء۔۔۔آپ خدا کے وہ شیر ہیں، آپ میں سے ہر ایک کا ذکر قرآن کریم میں ان شہروں کے طور پر ملتا ہے، جنہوں نے خدا کی راہ میں کچھ Produce کرنا ہے، کچھ پیدا کرنا ہے اور بھیک منگے نہیں بنا ، لوگوں کے شکار پر زندہ نہیں رہنا بلکہ اپنا شکار خود پیدا کرنا ہے۔آپ میں سے ہر ایک کو زراع کی جماعت میں داخل ہونا چاہئے۔اور ہر ایک کو خدا کی راہ میں کچھ پیدا کرنا چاہئے۔تا کہ لوگ آپ کے شکار سے فائدہ اٹھائیں۔آپ لوگوں کے مارے ہوئے شکار کی طرف نظریں نہ جمائیں۔اس شان کی جماعت بننا ہے آپ کو۔اس لئے یہ ٹھیک ہے کہ آپ کی جماعت میں چند لوگ بھی اگر کام کریں گے تو ساری جماعت کے چہرے پر رونق آئے گی۔لیکن آپ ان کی پیدا کردہ رونق کے محتاج ہوں گے، ان کی وجہ سے آپ کا نام بلند ہورہا ہو گا۔ان لوگوں میں کیوں نہیں شامل ہوتے ، جن کی وجہ سے دوسروں کے نام بلند ہوا کرتے ہیں۔اس لئے ہر جماعت کے فرد کو اس پہلو سے اپنا جائزہ لینا چاہئے۔اور واقعہ اس میں کوئی بھی مبالغہ نہیں کہ اگر آپ اپنے طور پر خدا کی راہ میں کھیتی لگانے والوں میں شامل ہو جائیں گے تو اس جماعت میں داخل ہوں گے، جن کا ذکر ان آیات میں ملتا ہے کہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا رسول ہے۔کس شان کا رسول ہے اور کس شان کے ساتھی اس نے پیدا کر دیئے ہیں کہ یہ یہ ان کی صفات ہے۔اور دوسرے دور میں بھی اس کے کچھ ساتھی پیدا ہوں گے، جو الزراع ہوں گے ، خدا کی راہ میں کھیتی لگانے والے ہوں گے اور ان کی کھیتیاں نشو و نما پائیں گی۔اور اس کثرت سے وہ پھیلیں گے کہ غیر کے لئے غضب کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔یہ بھی مضمون ہے۔اس میں غیر کا غضب بیکار ہو جایا کرتا ہے۔اگر نشو ونما تیز ہو جائے اور اگر نشو و نما کمز ور ر ہے تو پھر غضب کا نقصان بھی ضرور پہنچا کرتا ہے۔تو نشو ونما کی تیزی کے نتیجے میں صرف غضب کا ذکر فرمایا۔اس کے نقصان کا ذکر نہیں فرمایا۔اگر جماعت احمد یہ اس تیزی سے پھیلنا شروع ہو جائے تو ناممکن ہے کہ کوئی حاسد، کوئی جماعت کا دشمن جماعت کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔کثرت کے ساتھ اور تیزی ساتھ پھیلنے والی جماعتوں کو کوئی دنیا میں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔جو اپنی جگہ کھڑی ہو جاتی ہیں، جو کمزور پڑ جاتی ہیں ، نشو و نما بند کر دیتی ہیں، ان کو نقصان پہنچتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم کی اس مثال کا اطلاق اس پہلو سے بھی کھیتی باڑی کے اوپر خوب صادق آتا ہے، وہ پودے جو بڑھ رہے ہوتے ہیں، ان کے اوپر بھی کیڑے مکوڑے بیٹھتے ہیں لیکن ان کا نقصان نہیں کر سکتے۔جن کی صحت اندورنی طور پر اچھی ہو، ان کے اوپر بھی دوسرے کپڑے حملہ کرتے ہیں لیکن ان کا 821