تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 818
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 06 نومبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم اسی طرح اور بھی کئی پہلوؤں سے یہ مثال تبلیغ کے معاملے میں حیرت انگیز طور پر صادق آتی ہے۔زمینداروں کو تجربہ ہے کہ جب وہ کھیت میں گندم یا کوئی اور بیج ڈالتے ہیں، اس پر محنت کرتے ہیں۔جیسا میں نے بیان کیا، بعض حصے جواب نہیں دیتے ، بعض جواب دیتے ہیں۔لیکن اگر وہ مسلسل محنت کرتے ر ہیں تو جو پہلے جواب نہیں دیتے تھے، وہ بھی جواب دینے لگ جاتے ہیں۔زمیندار جانتا ہے کہ جس کھیت کی طرف توجہ رکھی جائے ، وہ آہستہ آہستہ پہلے سے زیادہ Responsive ہونا شروع ہو جاتا ہے اور کچھ اور زمین کے ٹکڑے، جو پہلے نا کارہ تھے، شامل ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پھر بنے کٹ کٹ کے کھیت میں داخل ہونے لگ جاتے ہیں۔یہاں تک کہ درمیان میں چلنے کی جگہ بھی تھوڑی سی رہ جاتی ہے۔کھیتوں کے درمیان جو ڈنڈیاں بنی ہوئی ہوتی ہیں، اچھے زمیندار جانتے ہیں کہ آہستہ آہستہ وہ بھی کھیت میں داخل ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔جو کر زمین ہے، اس کا کلر کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، جو لیول (Level) نہیں تھی ، پانی نہیں پہنچتا تھا، پھر وہ لیول ہونی شروع ہو جاتی ہے۔تو وہ کھیت جن پر محنت کی جائے ، وہ جواب دیتے ہیں۔اس لئے بار بار یاد دہانی کرانے کی ضرورت ہے اور بار بار محنت کی ضرورت ہے۔امراء کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے اور ان کی مجالس عاملہ کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے ،سیکر ٹریان تبلیغ کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔صرف ایک دفعہ کی یادو دفعہ کی نصیحت کافی نہیں ہے۔آپ سب جو جماعت کے عہدیدار ہیں، آپ کا جماعت سے واسطہ روز روز کا پڑنے والا ہے۔میں ہر خطبے میں تو اس بات کو چھیڑ نہیں سکتا اور بہت سے مضامین ہیں، جن کی طرف توجہ دینی پڑتی ہے۔ساری دنیا کے بہت سے مسائل ہیں، جن کو باری باری زیر نظر لا کر جماعت کے سامنے رکھنا ہوتا ہے۔اور نہ میں بار بار یہاں آسکتا ہوں۔اس لئے جو عہد یدار ہیں، وہ ان الزراع میں داخل ہیں، جو میرے ساتھ شامل کئے گئے ہیں۔ان کو مسلسل توجہ کرنی چاہئے۔به مضمون جو ہے، یہ ان سب الزراع پر صادق آتا ہے، جو کسی ملک کی انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔مجلس عاملہ مرکز یہ ہو یا مقامی مجالس عاملہ ہوں۔کیونکہ میں نے تمام مجالس عاملہ کی ذمہ داری لگائی ہے کہ ہر مہینے وہ تبلیغ کے موضوع کو ضرور زیر بحث لائیں۔اور کوئی مجلس عاملہ ایسی نہ ہو، جس میں مہینے میں ایک بار ایجنڈے پر یہ مضمون نہ ہو کہ ہم نے تبلیغ کو زیر نظر لانا ہے اور دیکھنا ہے کہ ہم کیا کوششیں کر رہے ہیں؟ ان کوششوں کا کیا نتیجہ نکلا رہا ہے؟ کتنے نئے احمدیوں کو ہم نے داعی الی اللہ بنا دیا ہے اور ایک نیا اعزاز بخشا ہے؟ داعی الی اللہ بنا کے ان لوگوں میں شامل کر دیا ہے، جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔اور کتنے داعی الی اللہ ہیں، جو کمزور تھے یا ان کو طریقہ نہیں آتا تھا، ان کو ہم نے طریقے سمجھائے ، ان کی کمزوری " 818