تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 69

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد خلاصه ارشادات فرموده یکم جولائی 1985ء کسی بھی تقریب میں ریاء اور تکلفات کا دخل نہیں ارشادات فرمودہ یکم جولائی 1985ء آمین کی ایک تقریب کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے جوارشادات فرمائے ، ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:۔تلاوت اور نظم کے ترجمہ کے متعلق حضور نے ارشاد فرمایا:۔وو تلاوت اور نظم کا انگریزی میں ترجمہ بھی ہونا چاہیے۔اور آئندہ سے یہ اصول بن جائے اور اس پر بالالتزام عمل کیا جائے“۔اس کے بعد حضور نے دینی تقریبات میں سادگی کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ و کسی بھی تقریب میں ریاء اور تکلفات کا دخل نہیں ہے۔بعض مستشرق یہ کہتے ہیں کہ چونکہ اسلام صحرا کامذہب ہے، اس لئے اس کے رسم ورواج سادہ ہیں۔اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ اسلام ایک نہایت سادہ مذہب ہے۔اس میں بہت کم مذہبی یا تمدنی رسومات پائی جاتی ہیں۔ہماری تقریبات میں کسی قسم کی نمود و نمائش، ناچ گانا یا شراب نوشی نہیں ہوتی۔جو کہ آج کی دنیا کے لئے موجب لطف ہوتا ہے۔ہماری تقریبات دعاؤں سے بھر پور ہوتی ہیں۔مثلاً عید کے روز ، جو کہ کرسمس کی طرح مسلمانوں کا ایک سالانہ تہوار ہے، ہماری دعاؤں میں کمی کی بجائے زیادتی ہو جاتی ہے۔عام طور پر بھی اسلامی تعلیمات میں ہر روز 6 نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔جن میں ایک نماز تہجد ہے۔کچھ مغربی سکالرز اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ مذہب ایک نہایت پسماندہ علاقے کا مذہب ہے اور وہ اسے عرب کی تہذیب قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ایک نہایت غیر ترقی یافتہ علاقے میں پیدا ہوئے ، اس لئے اسی علاقہ کی اقدار اور رسومات کو تعلیمات اسلام میں شامل کر لیا۔حالانکہ یہ حقیقت سے بہت بعید ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ عرب کی تقریبات اور تہوار ناچ گانوں، شراب نوشی ، لڑائیوں اور ایسی ہی دیگر بد رسوم پر مشتمل ہوتی تھیں، جو کہ ایک انسانی ذہن لطف اندوز ہونے کے لئے سوچ سکتا ہے۔۔69