تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 762
خطبہ جمعہ فرموده 09اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم کہ اے محمد! تیرے دل کا کیا حال ہے؟ ہم تجھے ان قوموں کے عذاب کی خبر دے رہے ہیں، جو تیری مخالفت پر تلے بیٹھے ہیں اور ہزار سال بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ تیری مخالفت پر وقف ہو جائیں گے اور تیرے دین کو مٹانے کی کوشش کریں گے اور جب ہم یہ خبر دیتے ہیں کہ خدا ان کو ہلاک کرے گا تو تیرے دل کا کیا حال ہے؟ تو کیا اس غم میں اپنے آپ کو ہلاک کرلے گا کہ یہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔یہ وہ دل تھا، جو کل عالم کا شفیع بنے کا اہل تھا، یہ وہ دل تھا، جسے رحمۃ للعالمین قرار دیا گیا۔پس وہ ساری پیشگوئیاں، جو قرآن کریم میں اس پاک وجود کی مخالفت کے نتیجے میں دنیا کے ہلاک ہونے کے متعلق موجود ہیں، ہم اس دور سے گزر رہے ہیں، وہ حالات ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، جو مستقبل کی باتیں تھیں، وہ آج حال بن چکی ہیں۔اور اس بنتی ہوئی اور قوموں کی بگڑتی ہوئی تاریخ کو ہم اپنی آنکھوں سے مطالعہ کر رہے ہیں۔اس تاریخ ساز یا تاریخ کو بگاڑنے والے دور میں سے آج ہم گزر رہے ہیں اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی نمائندگی، اس پاک دل کی نمائندگی ہمیں عطا ہوئی ہے۔اور یہ نمائندگی نہیں ہو سکتی، جب تک اپنے دلوں کو رحمت کی آماجگاہ نہ بنا لیں۔جب تک وہی جذ بہ اپنے دل میں پیدا نہ کریں، جس طرح مائیں اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہیں۔آپ اس جذبے کی پرورش نہ کریں اس وقت تک نہ آپ حقیقی معنوں میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نمائندہ بن سکتے ہیں، نہ حقیقی معنوں میں آپ کو وہ اختیار نصیب ہوگا ، وہ قوت عطا ہوگی ، خدا کی تقدیر کی وہ تائید ملے گی کہ جس کے نتیجے میں آپ حقیقہ ، عملاً بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت اس دنیا کو پہنچا سکیں گے اور اس دنیا کو ہلاکت سے بچا سکیں گے۔یہ وہ خلاصہ ہے مضمون کا ، جو امریکہ کے حالات دیکھ کر بنی نوع انسان کے حالات دیکھ کر میرے دل میں ابھرا۔اور جب میں نے سوچا کہ یہ تو ایسے ایسے خطرناک حالات ہیں اور اتنے وسیع پیمانے پر ہیں اور اتنے بڑے قوتوں کے پہاڑ ہمارے مقابل پر کھڑے ہیں کہ ہم بالکل بے بس ہیں، اس کے مقابل پر۔پھر جب دل میں شدید اس کے لئے کرب پیدا ہوا بے چینی پیدا ہوئی تو ظاہر ہے کہ انسان پھر نظر اپنے بڑوں کی طرف اٹھاتا ہے، جب بھی مصیبت میں پڑتا ہے۔میری نظر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منتقل ہوئی۔آپ کے حالات کا جائزہ لیا تو اس وقت مجھے سمجھ آئی کہ دنیا کے نجات ، جس طرح کل آپ کی ذات سے وابستہ تھی، آج بھی ہماری ذات سے نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات سے وابستہ ہے۔اس ذات کو اپنی ذات میں اتارنا پڑے گا۔وہی ایک ذات ہے، جو آپ کو بچا سکتی ہے۔اور 762