تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 736
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اس سلسلے میں جہاں تک علمی پروگرام کا تعلق ہے، ہم اس کے مکمل ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے۔مربی کو جامعہ میں تربیت دینے کے لئے سات سال لگ جاتے ہیں۔اور جب وہ نکلتا ہے تو ابھی کچا ہوتا مختلف میدانوں میں جب اس سے مقابلہ کروایا جاتا ہے تو اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ سات سال کی تعلیم کے باوجود بعض دفعہ بڑے نمایاں نمبر حاصل کرنے کے باوجود عملی میدان میں جب پڑتا ہے تو کئی قسم کی وقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وقت پر بات بھول جاتی ہے، گفتگو کا سلیقہ یاد نہیں رہتا، دلیل یاد بھی تھی تو اس وقت الٹی پلٹی دلیل شروع ہو جاتی ہے۔جو طریقے اور داؤ کے مطابق نہیں ہوتی۔علم ہے مگر استعمال درست نہیں لیتا۔کہیں نئے اعتراض آتے ہیں تو آدمی حیران اوسان ہو جاتا ہے کہ اوہو! اس کا جواب تو میں نے کتاب میں پڑھا کوئی نہیں تھا۔تو عملاً جو تبلیغ ہے، وہ علمی تبلیغ سے کچھ مختلف ہو جایا کرتی ہے۔اور محض علمی تیاری بھی اگر آپ کی کرائی جائے تو میں نے بتایا ہے Whole Time سات سال کا کورس کرنا پڑے گا۔اب کہاں جماعت اتنی توفیق رکھتی ہے، کہاں اتنا صبر ہے ہمیں کہ ہر شخص کے لئے سات سات سال کے کورس کر یں اور پھر توقع رکھیں کہ وہ تبلیغ کرے۔لیکن عملاً تجربہ میں اگر فور داخل ہو جا ئیں اور توکل رکھیں اللہ تعالیٰ پر اور دعا کریں تو اتنے لمبے علم کی ضرورت نہیں ہے۔خدا تعالیٰ خود مربی بن جاتا ہے، خدا تعالیٰ خود معلم ہو جاتا ہے۔ایک داعی الی اللہ اگر خالصہ اللہ اللہ کی محبت میں کام شروع کرتا ہے، اس پر توکل کر کے کام شروع کرتا ہے تو بسا اوقات خدا اس کی ایسی ایسی حیرت انگیز راہنمائی فرماتا ہے کہ اسے پتا ہی نہیں ہوتا کہ کس طرح اس کو یہ دلیل ذہن میں آئی اور کس طرح خدا تعالیٰ نے اس کو عظیم الشان غلبہ عطا کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں جہلاء کو بھی اللہ تعالیٰ بڑے بڑے علماء پر غلبہ عطا کر دیا کرتا تھا۔اس لئے کہ وہ نیک اور مخلص اور متقی لوگ تھے۔اپنے علم پر توکل کرنے والے نہیں تھے بلکہ خدا تعالیٰ کے سہارے اس کے فضل پر تو کل کرنے والے تھے۔اور سارے علموں کا سر چشمہ خدا ہے۔وہی گر سکھاتا ہے کہ کیسے تم غالب آؤ۔حضرت موسیٰ جب فرعون سے گفتگو کر رہے تھے تو قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ بار بار آپ کی توجہ خدا کی طرف مبذول ہوتی تھی۔اللہ تعالیٰ ہی ان کو جوابات سکھاتا چلا جار ہا تھا کہ یہ جواب دو، یہ جواب دو، یہ جواب دو۔اس لئے وہی خدا ہے ہمارا۔وہ آپ کی بھی اسی طرح پرورش کرے گا، آپ کی بھی اسی طرح سر پرستی کرے گا۔اس لئے علم کی کمی کو عذر نہ رکھیں علم کی کمی کا بہانہ لے کر میدان سے نہ بھا گیں۔جو کچھ آپ کے پاس ہے، وہ خدا کے سپر دکر دیں۔پھر دیکھیں خدا اپنا حصہ کتنا ڈالتا ہے۔یہ بات میں وسیع تجربے کے بعد کہہ رہا ہوں۔جو احمدی بھی لاعلمی کے باوجود تبلیغ کے 736