تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 735 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 735

تحریک جدید- ایک الہی تحریک خطبه جمعه فرموده 28 اگست 1987ء مصروف ہوتے تھے تو ہر دوسری چیز بھول جایا کرتے تھے۔چنانچہ مغل صاحب عبد العزیز صاحب مغل لاہور کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی تھے ، ان کے واقعات آتے ہیں کہ بعض دفعہ یہ ہوتا تھا کہ صبح گھر سے سبزی لینے گئے ہیں اور رات بارہ بجے واپس آئے ہیں۔پتا لگا کہ گاؤں جا کے سبزی لینی شروع کی تو وہیں تبلیغ شروع کر دی، کچھ دکاندار تھے، کچھ آنے والے اکٹھے ہو گئے ، ایک اڈا بن گیا اور نہ کھانے کی ہوش ، نہ کسی گھر کا خیال۔گھر والے بیٹھے انتظار کر رہے ہیں کہ سبزی لے کر آئے تو کچھ پکے اور یہ بارہ بجے رات کے تھک کے واپس آرہے ہیں۔اور پھر بڑے مزے کے ساتھ ، بڑے سرور کے ساتھ گھر والوں کو واقعات سناتے کہ آج یہ باتیں ہوئیں، یہ باتیں ہوئیں اور یہ باتیں ہوئیں۔بڑی تبلیغ کا ان کو موقع ملا۔کئی خدا کے فضل سے احمدی ہیں، کئی احمدی خاندان ہیں، جو ان کے مرہون منت ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔قیامت تک ان میں جو نسلیں پیدا ہوں گی ، وہ ان کا خیال کر کے، ان کا نام لے کر، ان کو سلام بھیجیں یا نہ بھیجیں ، خدا کے فرشتے ان کی طرف سے ان کو سلام بھیجتے رہیں گے۔پس ایسے ایسے عظیم لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں پیدا ہوئے۔انہی کی نسلیں ہیں، آج اکثر جن کو ہم احمدیت کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔کچھ نئے آنے والے بھی ہیں لیکن تربیت تو بہر حال انہی کی ہے۔ان یادوں کو زندہ کرنا ہوگا، ان رسموں کو زندہ کرنا ہوگا، وہ رواج دوبارہ اپنی زندگی کے رواج بنانے ہوں گے۔وہ زندہ رہنے کا فیشن ہے، جسے ہمیں اختیار کرنا ہوگا۔پھر ہم زندہ قوم بن سکتے ہیں۔اس لئے جو باتیں دوسرے ملکوں میں درست ہیں، وہ ناروے میں بھی درست ہیں۔آہ جماعت سے باہر کوئی الگ جماعت نہیں ہیں۔آپ کو بھی دعوت الی اللہ کے پروگرام کو اسی طرح ہر سمت میں، ہر جہت میں بڑھانا پڑے گا۔تعلیم اور تربیت کا کام، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے علمی پہلو سے بڑھ کر محبت اور پیار کے تعلق کے قیام کے ذریعے ہوتا ہے۔جس طرح مرغی اپنے پروں کے نیچے لیتی ہے بچوں کو اور وہی اس کی تربیت ہے، جماعت کو اپنے پروں کے نیچے لینے کی عادت ڈالنی پڑے گی عہدیداروں کو۔اور پروں کے نیچے لے کر پروں میں سمیٹنے کی صرف نہیں ، طاقت دے کر پھر آگے چھوڑنے کی ، پھر اڑنے کی مشق کرانے کی ، پھر آزاد زندگی گزارنے کی۔یہ ہے وہ تربیت ، جو دعوت الی اللہ کی تیاری کے لئے ضروری ہے۔جس کا راز ہمیں فصر من الیک نے بتا دیا کہ اے ابراہیم ! میں تیرے لئے ضرور قوموں کو زندہ کروں گا۔زندہ میں ہی کرتا ہوں لیکن تجھے وہ کرنا ہوگا، جو میں تجھے بتا تا ہوں۔محبت اور پیار سے پرندوں کو پکڑ اور اپنے ساتھ لگالے، اپنی محبت ان کے دل میں پیدا کر اور پھر ان کی تربیت کر پھر دیکھ کس طرح وہ تیری آواز کے تابع وہ سارے کرشمے کر کے دکھا ئیں گے، جو تو ان سے توقع رکھے گا۔735