تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 734 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 734

خطبہ جمعہ فرموده 28 اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد ہفتم سب جگہ کیسے استعمال کر سکتا ہوں؟ اس لئے اگر وہ اپنی زمینوں کی فکر کرے گا تو اس کے لئے لازما اور مزدور حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔جس طرح زمین کا کام بڑھتا ہے تو مزدوروں کی تلاش بڑھ جاتی ہے، زمیندار کو۔اس طرح راہ مولی کے مزدور اس کو تلاش کرنے پڑیں گے۔کیونکہ خدا کی زمینیں بڑھ گئی ہیں۔پس ایک کام کی طرف عدم توجہ، دوسرے کام کی طرف سے عدم توجہ پر مبذول ہو جاتی ہے۔ایک کام کی طرف کما حقہ توجہ کریں تو دوسری توجہ خود بخود بیدار ہوتی ہے۔اسی طرح کام ایک دوسرے کو سہارا دے کر آگے بڑھتے ہیں۔اس لئے سب سے اہم ذمہ داری کسی ملک کے امیر کی ہے، اس ملک کے مربی کی ہے اور اس ملک کی مجلس عاملہ کی من حیث المجموع ذمہ داری ہے اور متعلقہ عہد یداران کی ہے۔اسی طرح خدام ہیں، انصار ہیں۔اگر سارے اپنی ذمہ داریوں کو پیش نظر رکھ کر حکمت کے ساتھ مسلسل آگے بڑھیں گے اور جو نصیحت کی جاتی ہے، اس کو معمولی سمجھ کے نظر انداز نہیں کریں گے تو دیکھتے دیکھتے جماعتوں کی کایا پلٹ جائے گی۔بعض دفعہ سنتے ہیں، کہتے ہیں: ہاں ، خلیفہ وقت نے کہہ دیا ہے ، ٹھیک ہے، تھوڑی دیر کے بعد یہ بھی بھول جائے گا، ہم بھی بھول جائیں گے۔میں تو انشاء اللہ نہیں بھولوں گا کیونکہ مجھے خدا یاد کرا دیتا ہے۔آپ بھولیں گے تو جرم کریں گے۔میری تو دن رات کی یہ تمنا ہے، دن رات کی دل میں ایک آگ لگی ہوئی ہے، میں کیسے بھول سکتا ہوں۔اس لئے اللہ مجھے یاد کراتا رہے گا اور میں یا درکھوں گا اور یاد آپ کو بھی کراتا رہوں گا۔لیکن اگر آپ نے غفلت کی وجہ سے اس بات کو بھلایا تو یاد رکھیں ، آپ خدا کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔نہ بھولیں ، نہ بھولنے دیں۔آج جماعت کی سب سے بڑی، سب سے اہم ذمہ داری خدا کا پیغام دوسروں تک پہنچانا ہے۔اور اس میں ہم پہلے ہی پیچھے رہ گئے ہیں۔کون سا وقت رہ گیا ہے، ضائع کرنے کا؟ ہر شخص کو تربیت دیں پیار اور محبت سے سمجھا کر آگے بڑھائیں۔اور جو ایک دفعہ اس میدان کا سوار بن جائے گا، وہ پھر آپ کو دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔یہ کام ہی ایسا ہے۔دنیا والے، جس طرح نشہ کرتے ہیں تو نشہ ان کو سنبھال لیتا ہے۔اسی طرح تبلیغ کا ایسا کام ہے کہ جو نشے سے بڑھ کر طاقت رکھتا ہے اور تبلیغ کرنے والے کو سنبھال لیتا ہے۔داعی الی اللہ پھر داعی الی اللہ ہی بنارہتا ہے۔اس کو کسی اور کام میں دلچسپی ہی نہیں رہتی۔بعض داعی الی اللہ تو اپنے گھر کے حالات بھول جاتے ہیں، اپنے خاندانوں کو بھول جاتے ہیں، دن رات ایک کام کی لگن ہو جاتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جب احمدیت تیزی سے پھیلی ہے، تو یہ وجہ تھی، ایسے ایسے صحابہ تھے، جن کو اپنے تن بدن کی کسی اور چیز کی ہوش ہی نہیں رہتی تھی۔دعوت الی اللہ میں 734