تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 732 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 732

خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتُى (البقرة:261) زندگی تو تو نے ہی بخشنی ہے، میں جانتا ہوں۔میرے ذریعے ہو یا جو بھی تیرا منشا ہے۔لیکن تو بخشنے والا ہے۔میں جانتا تو ہوں کہ تو ان قوموں کو زندہ کر دے گا۔مگر کیسے کرے گا، مجھے بتا تو سہی ؟ میرے دل کو تسلی دے تو خدا تعالیٰ نے وہ راز ان کو سمجھایا کہ زندہ میں کروں گا لیکن تیرے ذریعے کروں گا۔فرمایا: چار پرندے لے، ان کو اپنے سے مانوس کرلے، اپنے لئے ان کے دل میں محبت پیدا کر اور ان کے لئے اپنے دل میں محبت پیدا کر۔جب وہ مانوس ہو جائیں تو ان کو چار مختلف سمت کی پہاڑیوں پر چھوڑ دے۔پھر ان کو آواز دے، دیکھ کس سرعت کے ساتھ وہ تیری آواز کے اوپر اڑتے ہوئے چلے آتے ہیں۔یہ ئی زندگی بخشنے کا جو نظام ہے، خدا تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو سمجھایا۔اور ہمیشہ کے لئے ہمارے لئے نمونے کے طور پر پیش فرما دیا۔پس ہر مربی ، ہر مبلغ، ہر امیر اور ہر صدر اور ہر متعلقہ عہدیدار کو خواہ وہ سیکرٹری اصلاح و ارشاد ہو یا جس حیثیت سے بھی اس کام میں اس کا تعلق ہو ، اس کو چاہئے کے جماعت کے بعض افراد کو پکڑے اور فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ (البقرة: 261) کے تابع ان کو اپنے ساتھ وابستہ کرے۔اپنے ساتھ ملا کر، پیار کا تعلق قائم کر کے ان کی تربیت کرے۔تھوڑے تھوڑے کام ان کے سپر د کرے۔پھر ان کو دنیا میں پھیلا دے اور ان کے ذریعے احیائے موتی کا کام لے۔اس طرح اپنی توفیق کے مطابق اس کی توجہ کا مرکز بدلتا رہے گا۔آج چار یا آٹھ یا دس نوجوان پکڑے ان کی تربیت کی ، ان کو کام پر لگا دیا ، پھر دوبارہ کل آٹھ یا دس یا ہمیں نوجوان، جتنی بھی توفیق خدا بڑھاتا چلا جائے ، اس کے مطابق ان کو لیا، ان کی طرف توجہ کی ، چند مہینے ان کے ساتھ محنت کی، پیار اور محبت کے ساتھ ان کو طریقے سمجھائے اور جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے، پھر وہ اپنا کام خود سنبھال لیں گے۔اس طرح ہر وقت پیش نظر پہلے سے بڑھتی ہوئی تعداد پہنی چاہئے۔مسلسل ذہن میں یہ بات حاوی رہنی چاہئے کہ میری جماعت میں دعوت الی اللہ کرنے والے پہلے سے بڑھے ہیں کہ نہیں بڑھے؟ کیا میں پہلوں پر ہی راضی ہوں یا میں جان کر عمداً کوشش کر رہا ہوں کہ پہلے سے تعداد بڑھتی چلی جائے۔پھر اس کے علاوہ یہ امر بھی دیکھنے والا ہے کہ جن لوگوں کو تبلیغ کی جاتی ہے، ان میں کتنے طبقا ہیں؟ اور کیا ہر طبقے کی طرف ہم متوجہ ہیں کہ نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بعض اچھی اچھی زمینیں ہیں، جو 732