تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 731 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 731

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 28 اگست 1987ء اکثر یہی کر رہی ہے۔فصلیں کاشت کرتی ہے، پھل والے درخت لگاتی ہے اور پھر جتنا محنت کرتی ہے، اتنا اس کا پھل کھاتی ہے۔لیکن کچھ قو میں ، جیسا کہ آسٹریلیا کے Obroganees تھے یا ہیں اور کچھ اور ممالک بھی ایسے ہیں، جن کو Gatherers کہا جاتا ہے، وہ صرف سمیٹنے کا کام کرتے ہیں۔تو اکثر منتظمین کام سمیٹ رہے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے جہاں دو، چار، دس داعی الی اللہ دے دیئے، ان کی رپورٹوں کو سمیٹ کر ان کی رپورٹ بڑی مزین ہو جاتی ہے اور خوبصورت ہو جاتی ہے۔اور یہ تاثر دیتے ہیں مرکز کو کہ گویا ساری جماعت بڑا اچھا کام کر رہی ہے۔اور دیکھیں اتنا اچھا پھل لگ گیا۔حالانکہ بعض اوقات جو داعی الی اللہ ہیں، ان کو بنانے میں ان کا کوئی دخل نہیں ہوتا ، ان کو سجانے میں ان کا کوئی دخل نہیں ہوتا ، ان کو پہلے سے زیادہ بہتر کرنے میں ان کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔لیکن بعض جگہ ہوتا ہے۔بعض جگہ جماعت کا سارا نظام ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہوتا ہے، سر پرستی کر رہا ہوتا ہے ، ان کے ساتھ مل کر کام کو آگے بڑھا رہا ہوتا ہے۔تو وہ صاف نظر آ جاتا ہے۔تو جہاں تک رپورٹیں سمیٹنے کا تعلق ہے، رپورٹیں تو کچھ نہ کچھ بج جاتی ہیں۔لیکن سمیٹنے والے کی ذمہ داری ادا نہیں ہو جاتی۔اس کا کام یہ ہے کہ خود اپنی زمینیں بنائے۔اس کا کام یہ ہے کہ نئی کاشت کی کھیتیاں پیدا کرے۔اس کا کام یہ ہے کہ نئے درخت لگائے۔اور پھر خدا تعالیٰ کے سامنے صاف دل کے ساتھ پیش ہو کہ اے خدا! اس سال میری محنت کا یہ پھل ہے۔میں نے کوشش کی تو نے اپنے فضل کے ساتھ مجھے تو فیق عطا فرمائی کہ میں نے تیری راہ میں نئے کھیت اگائے ہیں اور تیری راہ میں نئے باغ لگائے ہیں۔تو دعوت الی اللہ کے باغ اور کھیت لگانے کا کام یہ عہدیداران کا کام ہے۔اور یہ محض نصیحت سے نہیں ہوتا ، یہ محض یاد دہانی سے بھی نہیں ہوتا۔یہ ساتھ لگ کر کام سکھانے سے ہوتا ہے، بعض عادتیں راسخ کرنے سے ہوتا ہے۔بعض لوگوں کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگانا اور پھر ان کے ساتھ پیار کا تعلق قائم کر کے ان کے دلوں میں کام کی محبت پیدا کرنا، یہ ایک فن ہے۔اور اس فن کے متعلق قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے ایک نہایت ہی عمدہ اصولی روشنی ڈالی، جس سے استفادہ کرنا چاہئے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر د خدا تعالیٰ نے قوموں کو زندہ کرنے کا کام کیا تھا۔وہ قوموں کے نبی تھے۔بڑے عظیم الشان مقام کے نبی تھے۔اور خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے ذریعے میں قوموں کو نئی زندگی عطا کروں گا۔بڑے عاجز مزاج تھے۔حیران ہوئے کہ اتنا مشکل کام میں کیسے کر سکوں گا۔عرض کیا:۔731