تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 730 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 730

خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ان کی نظر سے اوجھل نہیں اور کوئی ایسی بات بھی نہیں، جس کی ان کو یاد دہانی کی ضرورت پڑے۔چنانچہ جو اہم امور خدا تعالیٰ نے بندے کو کرنے کے لئے کہے ہیں، ان کا ایک سوالنامہ بھی ساتھ ساتھ تیار ہوتا چلا جا رہا ہے، مختلف حالات کے مطابق۔اور عملاً ہم جو اس کا جواب پیش کرتے ہیں، وہ بھی تیار ہوتا چلا جاتا ہے۔پس کہنے والا دنیا میں بھول چکا ہو، سننے والا بھول چکا ہو، مگر یہ جو خدا تعالیٰ کا آسمانی جواب طلبی کا نظام ہے، یہ تو کسی چیز کو نہیں بھولتا۔اور چونکہ جماعت احمدیہ کا تعلق دنیاوی حکومت سے نہیں بلکہ آسمانی حکومت سے ہے، اس لئے یہاں جزا سزا کا نظام بھی آسمانی ہے۔اگر تو دنیا میں سزاد ینی ہوتی کوئی ، پھر تو جواب طلبی کرنے والے بھول جائیں تو پھر فرق پڑتا اور کئی لوگ سزا سے بچ جاتے۔اگر خدا تعالیٰ نے فیصلہ کرنا ہے جزا سزا کا تو پھر دنیا والے جواب طلبی کریں، نہ کریں، بھول جائیں تب بھی ، نہ بھولیں تب بھی ، عملاً کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔اس لئے ان امور کو جن کا دین سے تعلق ہو، نسبتا زیادہ سنجیدگی سے دیکھنا چاہئے۔اور زیادہ کوشش اور جدوجہد اور ذمہ داری کے ساتھ ان کی ادائیگی کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔یہ دعوت الی اللہ کا پروگرام، کوئی معمولی پروگرام نہیں ہے۔ہم اگلی صدی کے کنارے پر بیٹھے ہیں۔اور ساری دنیا کو اسلام میں لانے کا تہیہ کر کے ایک سو سال سے جو کوشش کر رہے ہیں، ابھی تک ایک سوسال میں کسی ایک ملک میں بھی واضح اکثریت تو در کنار نصف تک بھی ہم نہیں پہنچ سکے، دسواں حصہ بھی ابھی تک ہمیں کامیابی نہیں ہوسکی کسی ملک میں۔تو ساری دنیا کو اسلام میں لانا، یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے، جو ہمارے کندھوں پر خدا تعالیٰ نے ڈالی ہے۔اس کے لئے سنجیدگی سے تیاری کرنی ہے اور اس کے سوا اور کوئی حل بھی نہیں ہے کہ ہم میں سے ہر شخص تبلیغ کرے اور مؤثر تبلیغ کرے۔اور چین سے نہ بیٹھے، جب تک اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کی تبلیغ کو پھل نہ لگنے لگ جائیں۔تو جہاں تک عہدیداران کا تعلق ہے، ان کو بھولنا نہیں چاہئے۔ان کی خواہ میں جواب طلبی کروں یا نہ کروں۔اگر وہ اس بات کو بھول جائیں گے تو جماعت بھی بھول جائے گی۔عہدیداروں پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خوب یا درکھیں اور بار بار پلٹ پلٹ کر جماعت کے حالات کو دیکھتے رہیں کہ کس حد تک یہ کام آگے جاری ہے۔عموما یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ عہدیداران چند آدمیوں کے نیک کام کو اپنی رپورٹ میں سمیٹتے ہیں۔اور جس طرح آسٹریلیا کے Obroganees تھے، جو خود محنت کر کے چیز اگانے کی بجائے جو قدرت پھل دیتی ہے، اس کو سمیٹنے والے لوگ۔چنانچہ دنیا میں دو قسم کے رزق حاصل کرنے والے ہیں، ایک وہ جو اگاتے ہیں محنت کر کے اور پھر پھل کھاتے ہیں۔جیسے آج کل متمدن دنیا 730