تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 724
خطبہ جمعہ فرموده 21 اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک پس اگر مسجد کو بھی نقصان پہنچ جائے اور آپ اس زینت سے بھی محروم رہ جائیں، جس سے آپ کی مسجد کی رونق بنی تھی تو یہ بڑا نقصان ہے۔اس لئے ایسے ہر ابتلاء میں اپنے قیمتی اور دائی اصولوں کو بالکل نہیں چھوڑنا۔دشمن خواہ کتنی بھی زیادتی آپ پر کرے، دشمن کی دشمنی میں اپنی جان کے دشمن بنا تو کوئی عقل کی بات نہیں ہے۔ہماری سب سے زیادہ قیمتی جان سے بھی زیادہ قیمتی چیز ہمارا ایمان ہے، ہمارے اصول ہیں، ہماری اعلیٰ اخلاقی قدریں ہیں، جو اسلام سے ہمیں عطا ہوئی ہیں۔ان قدروں کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔اس لئے میں نے امیر صاحب سے آتے ہی جو بات کی، وہ یہی تھی کہ کوئی الزام بغیر کسی دلیل کے، بغیر کسی قطعی ثبوت کے ہمیں دوسرے پر نہیں لگانا چاہئے۔ایک چیز البتہ ہے، جس سے ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں اور اسی تک ہمیں اپنی توجہ کو مبذول رکھنا چاہئے ، اسی تک ہمیں اپنے بیانات کو محدود رکھنا چاہئے۔وہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان کے متعلق ہم بغیر کسی شبہ کے جانتے ہیں کہ حکومت پاکستان نے عہد کر رکھا ہے، حکومت پاکستان سے مراد ایک ڈکٹیٹر کی حکومت کی بات کر رہا ہوں، اس نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنی ہے۔جہاں جائیں گے، ہم ان کی دشمنی کریں گے۔جہاں جہاں جماعت احمدیہ موجود ہے، وہاں کرائے کے مولوی بھجوا کر ان کے بزرگوں کی بے عزتیاں کروائی جائیں گی ، ان کے خلاف اشتعال پھیلایا جائے گا، ان کے خلاف نفرت کی آگ کا الاؤ روشن کیا جائے گا۔نفرت کے الاؤ کے ساتھ روشن کا لفظ تو مناسب بھی نہیں ہے، الا ؤ بھڑ کا یا جائے گا کہہ دینا چاہئے۔مگر بہر حال یہ وہ فیصلے ہیں، حکومت پاکستان کے ایک ڈکٹیٹر کے، جن کے متعلق اس نے اپنی بدنصیبی کے ساتھ ساری دنیا میں تشہیر خود کی ہے۔انگلستان کی کانفرنس میں، یہ بات جو چند سال پہلے ہوئی تھی ایک علماء کی کانفرنس، اس کی طرف میرا اشارہ ہے۔اس کا نفرنس میں یہ بات ایک تحریری پیغام کے طور پر انگلستان میں پاکستان کے Ambassador کے نمائندے نے پڑھ کر سنائی، جس میں پیغام کا ما حاصل یہ تھا کہ ہم ، یعنی حکومت پاکستان کے نزدیک، جماعت احمدیہ کو ایک کینسر بجھتی ہے اور ہم اس بات کا تہیہ کئے ہوئے ہیں کہ اس کینسر کی بیخ کنی کریں گے، ہر طرح سے۔تو ایک بات ہم یقینی طور پر ساری دنیا کو ایسے موقعوں پر یاد کراسکتے ہیں کہ ہمیں اتنا پتا ہے کہ ایک حکومت ہے، جس کے بعض بد نصیب موجودہ سربراہ یہ کھلم کھلا اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ ہم جماعت احمدیہ کی دشمنی میں جو کچھ ہم سے بن پڑے گی، کریں گے۔ایسی حکومت کے کرائے کے مولوی جس ملک میں بھی جائیں گے، اس ملک میں اس قسم کے واقعات کی توقع رکھنا، ایک معمولی بات ہے۔بڑی بے وقوفی ہوگی کسی حکومت کی کہ ایسی حکومت کے نمائندہ مولویوں کو کھلی چھٹی دے 724