تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 716
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد ہفتم تو ہر جگہ کے امراء اور پریذیڈنٹ صاحبان اور دیگر کارندوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ آئندہ بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے پیش نظر ہمیں ابھی سے خدمت دین کی صف اول میں کام کرنے والوں کی تعداد کو بڑھانا چاہئے۔اس سلسلے میں کچھ نفسیاتی رو کیس بھی ہیں، جن کا تجزیہ ضروری ہے۔ورنہ بہت سے امیر اور پریذیڈنٹ صاحبان ایسے ہوں گے، جن کو پتا ہی نہیں ہوگا اپنا کہ ہم کیوں یہ کام نہیں کر رہے؟ کچھ تو جیسا کہ میں نے ایک پہلے خطبہ میں بھی اشارہ کیا تھا، اپنی بے وقوفی کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ کچھ لوگ ہمارے ساتھی ہیں اور کچھ لوگ ہمارے دشمن ہیں۔یعنی ناجائز طور پر بے وجہ بعض احمد یوں پر اعتماد نہیں کرتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو ہیں ہمارے مخالفین، ان کو ایک طرف چھوڑ دو۔اور یہ چندلوگ اچھے ہیں۔یا مخالف نہ بھی سمجھیں تو بدظنی کرتے ہیں۔جب ان سے پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں جی! یہاں تو قحط الرجال ہے۔کام کرنے والے ملتے ہی کوئی نہیں۔قحط الرجال تو نہیں ہے لیکن قحط العقل ضرور ہو سکتا ہے۔قرآن کریم بتا رہا ہے کہ قحط الرجال نہیں ہوتا۔بہت سے لوگ خاموش بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں، تمہیں نظر نہیں آ رہے ہوتے۔اس دور کی آزمائش نے ہمیں بتا دیا کہ ہمارے ہاں کثرت سے ہیں ایسے لوگ، جن میں الرجال بننے کی خاصیت موجود ہے۔ان کو اگر صحیح طریق پر آپ آگے لانے کی کوشش کریں تو بہت اچھے اچھے لوگ آپ کے پاس موجود ہیں، جن کو آپ نظر انداز کئے بیٹھے ہیں۔پس بہت سے امراء ہیں، جو بدظنی کرتے ہیں۔حالانکہ در حقیقت اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو دنیا کے کسی دور میں بھی قحط الرجال نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔سب سے زیادہ خطرناک دور، جسے قحط الرجال کا دور کہا جا سکتا ہے، وہ انبیاء کے ظہور کا دور ہوا کرتا ہے۔ایک دفعہ تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ ایک شخص کے سوا خدا تعالیٰ نے ہر دوسرے انسان کو رد فرما دیا ہے۔ایک وجود ابھرتا ہے اور اس کے اردگرد سارے فساد کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔وہ لوگ جو انتہائی ردی حالت میں دکھائی دے رہے ہوتے ہیں، وہ وجو دان پر ہاتھ ڈالتا ہے اور ان کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی شروع کر دیتا ہے“۔وو پس حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنا قحط الرجال ممکن ہو سکتا تھا، وہ تھا بظاہر۔لیکن اللہ کی تقدیر نے ثابت کیا کہ خدا کے بہادر بندوں کے سامنے قحط الرجال نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔جو اللہ پر توکل کرنے والے ہوتے ہیں، دعاؤں سے خدا کی مدد مانگتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ اپنے اموال اور اپنی جانوں سے کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں، ان کو خدا یہ توفیق بخشتا ہے کہ جہاں مرد نظر نہ آرہے ہوں، وہاں سے مرد پیدا کر کے دکھا دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 716