تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 698 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 698

خلاصہ خطاب فرموده یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد ہفتم لے کر آتا ہے۔پس اس جماعت کی سال بھر کی خدمتوں کے متعلق سوچا کیسے جا سکتا ہے کہ چند گھنٹوں میں ان کا ذکر خیر پورا کر دیا جائے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا، اپنی طرف سے تو میں خلاصہ ہی نکالا تھا لیکن اس خلاصے کا ایک بہت بڑا حصہ مجھے چھوڑنا پڑ رہا ہے۔پاکستان میں اس کے مقابل پر جو غیروں کو اسلامی خدمات کی توفیق مل رہی ہے، اس کے نتیجے میں خدا کے فضل نازل ہو رہے ہیں، انہیں غیر معمولی تائید دل رہی ہے اور خدا تعالیٰ کے انتقام کی کارروائیاں بھی حرکت میں آچکی ہیں۔بہت شدید معاندوں کو خدا تعالیٰ اس طرح پکڑ رہا ہے کہ بعض احمد یوں کو انہوں نے چیلنج دیئے اور وہ چیلنج انہوں نے قبول کئے اور دیکھتے دیکھتے خدا کے شدید عذاب نے ان کو پکڑ لیا اور وہ اپنے ماحول میں عبرت کا نشان بن گئے۔ان کے بھی یہ واقعات میں نے اکٹھے کئے تھے۔پندرہ بیس کے قریب وہ بھی سننے سے تعلق رکھتے تھے۔لیکن بالعموم پاکستان سے جو لوگ آئے ہیں ، ان کو اس کا علم ہی ہو گا۔دعا یہ کریں، ہمیں غیروں کی ہلاکت نہیں چاہتے ، ہمیں غیروں کی ہدایت چاہئے۔اگر عبرت کے لئے خدا نے نشان دکھانے کا فیصلہ فرمایا ہے تو ہم اس کی ہر رضا پر راضی ہیں۔لیکن دعا یہ کریں کہ یہ عبرت کے نشان ہوں، یہ ملیا میٹ اور تباہ کرنے والے نشان نہ ہوں، یہ قوم ہلاکت سے بچ جائے۔اور تھوڑے ہوں، جو خدا کی ناراضگی کا نشانہ بنیں اور اس رنگ میں بنیں کہ کثرت کو ہدایت نصیب ہو جائے۔ہے۔قبولیت دعا کے بھی بہت سے واقعات ہیں، جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا تھا۔لیکن یہ بھی ذکر ایسا ہے، جس کو اس لئے چھوڑا جا سکتا ہے کہ آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ قبولیت دعا کیا ہوتی ہے؟ کوئی ایک احمدی گھر بھی تو ایسا نہیں، جس نے قبولیت دعا کے نشان نہ دیکھے ہوں۔اللہ تعالیٰ ایسی دعاؤں کو بھی سن لیتا ہے، جو ابھی لفظوں میں نہیں ڈھلی ہوتیں۔اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے ساتھ ایسی محبت اور پیار کا سلوک فرماتا ہے کہ بعض دفعہ دعا نہیں بلکہ اعلان ہوتا ہے اور اس کو قبول فرمالیتا ہے۔بعض دفعہ غلطی سے ایک بات لکھی جاتی ہے اور اس کو بھی قبول فرمالیتا ہے۔اور بہت ہی حیرت انگیز اپنے پیار اور قرب کے نشان دکھاتا۔پس دعا کریں کہ آئندہ سال بھی اسی خدائے عظیم و واحد کا شکر ادا کرتے ہوئے ، اسی فضلوں والے، رحمتوں والے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے، ہم ترقی کی شاہراہوں پر آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں۔ہمارا ہر سال اپنے گزرے ہوئے سال ہائے گزشتہ اس طرح دیکھے، جیسے کوئی میناروں سے اس زمین کو دیکھا کرتا ہے، جس پر میناروں کی بنیاد قائم ہو۔ہر سال آئندہ تعمیر ہونے والے میناروں کی بنیاد بن جائے۔اور بلند سے بلند تر ایسے مینار تعمیر ہوں، جن کے اوپر پائے محمد یاں کی برکتیں اتریں۔اچھا جی ، السلام عليكم ورحمة الله وبركاته مطبوعه ضمیمہ ماہنامہ انصار اللہ اکتوبر 1987ء) 698