تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 690
خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم عریبک ڈیسک (عربی زبان کا شعبہ ) میں بھی خدا کے فضل سے عظیم الشان خدمات سر انجام دی گئی ہیں۔بہت اچھا لٹریچر، جس کی تشنگی محسوس کی گئی تھی، تیار کیا گیا۔اب ہم انشاء اللہ ایک رسالہ شائع کرنے والے ہیں، جو ترکی بہ ترکی ان الزامات کا جواب دیا کرے گا ، جو رابطہ عالم اسلامی کے اخبارات کی طرف سے اور رسائل کی طرف سے جماعت پر لگائے جاتے ہیں۔اور عرب دنیا میں ہر جگہ نمونہ کے طور پر ان میں سے چیدہ چیدہ لوگوں کو یہ رسالہ بھجوایا جائے گا۔یہ چار ڈیسک ہیں، جن کی تفصیلی رپورٹ ہے، ان کی تفصیل میں جانے کا اب وقت نہیں رہا، اس لئے ان کو چھوڑتا ہوں۔مربیان کی تعداد میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اضافہ ہوا ہے۔اس وقت 43 ملکوں میں 208 مربیان کام کر رہے ہیں۔جبکہ گزشتہ سال 41 ممالک میں 182 تھے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک سال میں 26 مرکزی مربیان کا اضافہ ہوا۔لیکن آئندہ چونکہ یہ خطرہ تھا کہ مرکزی مربیان کی تعداد میں کمی آجائے گی کیونکہ حکومت پاکستان نے باہر سے آنے والے واقفین کا راستہ بند کر دیا اور و تعلیم حاصل بھی کر رہے ہیں، افریقہ کے بعض ممالک کے طالب علم، ان کو تعلیم مکمل کئے بغیر واپس بھجوانا شروع کر دیا۔چنانچہ اس کا بھی وہی جواب دیا جانا تھا، جو قرآن کریم نے ہمیں سکھایا ہے۔چنانچہ ہم نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ افریقہ کے کئی ممالک میں اور انشاء اللہ جب توفیق ملے گی تو یورپ میں بھی نئے جامعہ احمد یہ کھولے جائیں گے۔دو ممالک میں اس کی داغ بیل ڈالی جاچکی ہے، ایک تیسرے ملک میں بھی کام شروع ہو چکا ہے۔ابھی تو آغاز ہے، اتنے زیادہ عملے کی بھی ضرورت نہیں۔لیکن عملہ بھی اللہ تعالیٰ مہیا فرمادے گا۔تو امید ہے، اب انشاء اللہ ایک جامعہ نہیں رہے گا بلکہ متعدد جامعہ ساری دنیا میں پھیل جائیں گے اور سینکڑوں کی بجائے ہزاروں طالبعلم پیدا ہوں گے۔آپ دیکھئے کہ یہ انسان کی بنائی ہوئی سکیم تو نہیں ہے۔یہ تو خدا تعالیٰ کے فرشتے ہیں، جو سارا انتظام کر رہے ہیں۔اس کی تقدیر ہے، جو دکھوں میں سے آہستہ آہستہ ظاہر ہو رہی ہے، کھلتی چلی جارہی ہے۔سوسالہ جشن کے ضمن میں خدا نے یہ تحریک میرے دل میں ڈالی کہ واقفین نو کی تحریک کرو۔لوگ اپنے بچے پیش کریں اور کثرت کے ساتھ مخلصین نے اس پر لبیک کہا اور عہد کئے کہ آئندہ دو سال میں ایک ہوا تو ایک، دو ہوئے تو دو۔جو بھی بچے ہوں گے، وہ خدا کے ہیں۔وہ آئندہ صدی میں احمدیت کا پیغام پھیلانے کے لئے وقف ہیں۔ان کے لئے ایک جامعہ ہمارا کیسے کام دے سکتا ہے۔وہ تو ہزارہا کی تعداد 690