تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 689 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 689

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد هفتم خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء یعنی جو کچھ میرے اختیار میں ہے، میں کروں گا۔یہ لفظ انہوں نے بولے تھے اور ساتھ ہی انہوں نے مجھے یہ بھی کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں آپ کو اس ماسکو انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے لیکچر دینے کی دعوت دوں۔کیا آپ اس خواہش کو قبول کریں گے؟ میں نے کہا: الحمد للہ، مجھے اور کیا چاہئے۔میری تو زندگی احمدیت کے لئے وقف ہے۔میرے وجود کی اور تو کوئی قیمت اور حیثیت ہی نہیں ہے۔اس لئے جہاں کہیں گے، حاضر ہوں گا۔چنانچہ میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالی اس لیکچر کا بھی انتظام ہو گا اور اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نئے راستے بھی پیدا فرمائے گا۔ٹرکش ڈیسک میں بھی بہت عمدہ کام ہو رہا ہے۔ہمارے جلال شمس صاحب خدا کے فضل سے بڑا وسیع رابطہ رکھ رہے ہیں۔یعنی آپ اندازہ کریں کہ پاکستان سے نکلنے سے پہلے نوے سال میں ترکوں سے اتنا رابطہ نہیں ہوا تھا۔لیکن جب سے ٹرکش ڈیسک قائم ہوا ہے، اس سے زیادہ رابطہ پیدا ہو چکا ہے۔اور بہت ہی اچھا رد عمل ہے۔خوامخواہ یہ سمجھتے رہے کہ گویا ترک جو ہیں، وہ دلچسپی نہیں لے رہے یا حکومت سخت ہے۔یہاں سے یعنی ترکی سے کثرت سے لوگ باہر کی دنیا میں نکلے ہوئے ہیں۔ان سے اگر ہم رابطہ کریں علمی طور پر تو اللہ کے فضل سے وسیع عظیم الشان نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔ایک پہلو سے گزشتہ رابطہ زیادہ تھا، اس کا ذکر بھی ضروری ہے۔ورنہ تحریک جدید کے کارندے کہیں گے کہ تم نے ہماری بعض باتوں پر پردہ ڈالا ہے۔شروع شروع میں جب بیوت الذکر صرف جماعت احمدیہ کی تھیں۔ابھی تیل دریافت نہیں ہوا تھا تو ترکی کے مزدور پیشہ لوگ اکثر ہماری بیوت الذکر آ جایا کرتے تھے۔اور پورٹوں سے یہ تاثر پیدا ہوتا تھا کہ ترکوں میں جماعت احمدیہ کے لئے بڑا رحجان پیدا ہو چکا ہے۔حالانکہ یہ عید کی نماز پڑھتے تھے اور غائب ہو جاتے تھے۔یا کبھی کوئی اتفاق سے جمعہ پڑھنے آ گیا۔جب یہ تیل دریافت ہوا اور دوسری مسجدیں بنی شروع ہوئیں، تیل کی دولت سے اور جماعت کے خلاف منافرت کی مہم شروع ہوئی تو وہ سارے لوگ غائب ہو گئے۔ایک بھی ان میں سے باقی نہیں بچا اور انہوں نے ہماری بیوت الذکر کی طرف منہ کرنا بند کر دیا۔پس اس نئے دور میں جو کام ہوا ہے، وہ نفرتوں کا مقابلہ کر کے ان کو محبتوں میں تبدیل کرنے کا چیلنج تھا، جو قبول کیا گیا۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس لحاظ سے عظیم الشان کامیابی حاصل ہوتی ہے۔اور عوام الناس میں نہیں بلکہ مذہبی لیڈروں میں نفوذ ہوا ہے، اہل علم لوگوں میں نفوذ ہوا ہے۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ ان میں سے جو داخل ہورہے ہیں، وہ اس پیغام کو کثرت کے ساتھ اپنے زیر اثر حلقوں میں آگے پہنچائیں گے اور ابھی سے انہوں نے یہ کام شروع بھی کر دیا ہے۔689