تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 688
خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم چین سے رابطہ اور چین تک دین حق کا پیغام پہنچانے کے رستوں کی تلاش۔یہ کام اس ڈیسک کے سپرد ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک عظیم الشان رستہ کھلا ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ ہمیں جو بھی چینی لٹریچر شائع کرنے کی توفیق ملے گی، ہم عنقریب اسے چین میں بھی پہنچانے کی توفیق پائیں گے۔رشین ڈیسک: اس میں رشین (روسی) زبان کے متعلق کام سپرد ہیں۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی راستے خدا نے خود کھولے ہیں۔ایسی باتیں ، جن کا ہمیں وہم و گمان بھی نہیں تھا، وہ آسمان سے خود بخود جماعت کی تائید میں اتری ہیں۔اور جن عظیم ملکوں میں پہلے ہم بالکل بے خبر رہنے کی وجہ سے تعارف پیدا نہیں کر سکے تھے، اب وہاں متعارف ہورہے ہیں۔صحیح لوگوں سے رابطہ ہورہا ہے۔ان کی طرف سے بڑا اچھا جواب مل رہا ہے۔اور وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جو دنیا سے چھپائی جائے۔بڑی کھلی کھلی بات ہے۔کوئی مخفی بات نہیں ہے۔چنانچہ گزشتہ دنوں یہاں جو ایک سیمینار کا بہت بڑا پروگرام یونیورسٹی آف لنڈن میں ہوا، اس میں بڑے بڑے رہنما دنیا سے آئے ہوئے تھے۔مختلف موضوعات پر خطاب کرنے کے لئے ان میں رشیا (روس) سے تعلق رکھنے والے غیر مذہبی لیڈر بھی اور مذہبی لیڈر بھی، مسلمان بھی، دیگر غیر مذہبی اور مذہبی لیڈر بھی آئے ہوئے تھے۔اور خدا کے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ انہوں نے ہماری دعوت قبول فرمائی۔ہمارے پاس آکر بیٹھے گھنٹوں باتیں کیں اور یہ ارادہ لے کر اٹھے کہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر کی اشاعت میں اور دوسری باتوں کے معاملہ میں حکومت، جس حد تک بھی اجازت دیتی ہے، اس حد تک وہ جماعت سے تعاون کریں گے۔خدا کے فضل سے ان میں سے ایک دوست تو اتنے اہم مقام پر فائز ہیں کہ ماسکو کا سب سے بڑا انسٹی ٹیوٹ، جس کا کلچر اور مذاہب سے تعلق ہے، اس کے وہ سر براہ ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دیکھتے دیکھتے ان کے دل میں احمدیت کے لئے نرم گوشہ پیدا ہوا۔ان کو جب پتہ لگا کہ جماعت کن عظیم مقاصد کے لئے قربانیاں دے رہی ہے اور جب یہ پتہ چلا کہ ہم تمام دنیا کی مملکتوں سے آزاد ہیں اور ایک ہی نظام ہے دنیا میں ، جو انفرادی اور ذاتی قربانیوں کے بل پر قائم ہے اور کسی دوسرے سہارے کا محتاج نہیں تو حیرت سے انہوں نے دیکھا۔کیونکہ انہوں نے یہ سنا ہوا تھا کہ جماعت احمد یہ گویا کہ بعض حکومتوں کی قائم کردہ ہے اور ان کے پیسے لے کر پل رہی ہے۔جب ان کو تمام باتیں دکھائی گئیں اور سمجھائی گئیں، ان کو ثبوت پیش کئے گئے تو ان کی تو بالکل کایا پلٹ گئی۔انہوں نے صفائی سے کہا کہ آپ میں جو بھی رشیا کا قانون ہے، ( وہ چونکہ مسلمان نہیں، انہوں نے تو یہی کہنا تھا) رشیا کا قانون جس حد تک اجازت دیتا ہے، 688