تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 682
خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم چاہتے ہیں۔اسی طرح امریکہ سے ڈاکٹر انوار احمد صاحب، جو مولانا شمس الدین خان صاحب کے صاحبزادے ہیں، جو ہمارے پرانے امیر جماعت ہوا کرتے تھے وہاں کے، انہوں نے پشتو زبان کے ترجمہ قرآن کریم کا خرچ برداشت کرنے کی پیش کش کی ہے۔اب میں آپ کو اس سکیم کے اس حصے کے متعلق بتاتا ہوں، جس کا تعارف میں پچھلے سال کروا چکا ہوں کہ ہمارا یہ پروگرام ہے کہ سو سالہ جو بلی کا جشن اس رنگ میں منایا جائے کہ ہم کم سے کم ایک سو زبانوں میں قرآن کریم کے اگر پورے تراجم پیش نہیں کر سکتے تو منتخبہ آیات کے تراجم کر کے وہ پیش کر دیں۔اور جب ہم نے اس کا جائزہ لیا تو ایک سو، آٹھ یا نو زبانوں کا پروگرام بن گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک ان میں سے 94 زبانوں کے ترجمے مکمل ہو کر ہمارے پاس آچکے ہیں۔اور کچھ ان میں سے ہمارے اس پریس میں طبع ہو رہے ہیں، جس کو لگانے کی جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی ہے۔یہ ایک لمبی فہرست ہے، چورانوے نام پڑھنا ملک کے، دلیس دیس کے، اس لئے میں اس کو چھوڑتا ہوں۔لیکن میں آپ کو یہ بتا تا ہوں کہ آپ بے شک جائزہ لے کر دیکھ لیں کہ گزشتہ چودہ سو سالوں میں اتنی عظیم الشان مسلمان حکومتیں آئیں، اتنے امیر لوگ پیدا ہوئے، اتنی خدمت اسلام کے دعوی کرنے والے اٹھے لیکن گزشتہ چودہ سو سال میں ان کو سو زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم دنیا کے سامنے پیش کرنے کی توفیق نہیں مل سکی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے گزشتہ ایک سال میں جماعت احمدیہ کو یہ توفیق عطا فرما دی ہے کہ اب تک 94 زبانوں میں ہم نمونے کے یہ تراجم مکمل کر چکے ہیں۔جو قرآن کریم کا تقریبا بیسواں حصہ بنتے ہیں۔نعرہ ہائے تکبیر ) اور ان آیات کے انتخاب میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت محنت کی گئی ہے۔بڑی دلچسپی اور گہرے مطالعہ کے بعد مختلف قوموں کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے، ایسی آیات کا انتخاب کیا گیا ہے کہ ایک آدمی جو قرآن کریم سے یا اسلام سے بالکل نا واقف بھی نہ ہو، اس کو بھی دین حق کا پیغام قرآن کریم کی زبان میں نہایت احسن رنگ میں سیر حاصل طور پر پہنچ جائے۔اور بڑے بڑے فلسفیانہ مضمون بھی اس کے اندر آجائیں اور عام سادہ مزاجوں میں اٹھنے والے سوال بھی قرآن ہی کی زبان میں حل کئے جائیں۔اس کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنا اچھا اثر پیدا ہوا ہے کہ مترجمین نے بے ساختہ قرآن کریم کی مدح میں گیت گانے شروع کر دیئے ہیں۔اور ایسے مترجمین ہیں، جن کے متعلق پہلے آپ گمان بھی نہیں کر سکتے تھے۔مثلاً ویلش زبان ہے۔ویلز میں اس وقت تک باہر سے گئی ہوئی جماعت قائم ہے۔مقامی باشندہ کوئی نہیں۔لیکن سپین ویلی میں ہمارے ایک مخلص دوست ہیں، جو د میلز سے تعلق رکھنے والے ہیں۔682