تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 651 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 651

تحریک جدید - ایک الہی تحریک خلاصہ خطاب فرموده یکم اگست 1987ء اپا سے گاؤں میں 150 ایکڑ زمین کالج اور ہسپتال اور ایگری کلچر فارم ( زراعتی فارم) کے لئے چیف نے تحفہ پیش کی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ سارے تحائف بھی شامل کر لئے جائیں اور پلاٹ شامل کر لئے جائیں تو افریقہ کے 18 ممالک میں اب 162 مشن ہاؤسز قائم ہو چکے ہیں۔اس کے بعد تو الو کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔توالو میں جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا، 1985ء میں جون کے مہینے میں پہلی بیعت ہوئی۔اور ابھی بمشکل دو سال گزرے ہیں۔مارچ 1986ء تک یہ تعداد 30 ہو چکی تھی۔جب ہمارے رضا کار مربی اپنی رخصت پر تشریف لائے ، اس وقت کم و بیش اتنی ہی تعداد تھی۔میں نے ان سے کہا کہ با قاعدہ جماعت کو وہاں رجسٹر کرائیں تا کہ ہم تیزی سے وہاں کام شروع کریں۔مشن ہاؤس تعمیر کریں ، خوبصورت بیت الذکر تعمیر کریں۔انہوں نے کہا کہ قانون یہ ہے کہ جب تک پچاس بالغ ممبر نہ ہوں ، اس وقت تک گورنمنٹ رجسٹر نہیں کرتی۔چنانچہ یہاں سے جب وہ گئے تو ان کی وہاں سے اطلاع آئی کہ خدا کے فضل سے آتے ہی نئی بیعتیں ہوئی ہیں اور 52 بالغ مرداب مل گئے ہیں ہمیں اور ہم نے رجسٹری کی درخواست دے دی ہے۔چونکہ جماعت احمدیہ کو خدا کے فضل سے وہاں پر تیزی سے کامیابی نصیب ہو رہی تھی، اس لئے چرچ نے مخالفت شروع کر دی۔اور جو محکمہ رجسٹری کروانے کے لئے مقرر ہے، اس کے کلرک پر بھی اس مخالفت کا اثر تھا۔قانون یہ تھا کہ پچاس آدمی کی ہی درخواست دی جائے۔افتخار صاحب نے غلطی سے 52 آدمیوں کے ہی نام لکھ دیئے۔اس کلرک کو چونکہ قانون کا پتہ تھا، اس نے جب منسٹر کے سامنے یہ درخواست پیش کی تو ان میں سے دو پر اعتراض لگا دیا اور مسٹر کو یہ کہا کہ پورے پچاس نہیں ہوئے ، 48 رہ گئے ہیں۔اس نے کہا 50 ہونے ضروری ہیں۔دو پر مجھے اعتراض ہے، جو درست ہے۔اس لئے اس کی رجسٹریشن ابھی نہیں ہو سکتی۔منسٹر نے ان کو فون کیا اور بلوایا اور کہا: دیکھو میں مجبور ہوں۔کوئی مخالفت کی بات نہیں ، قانونی دقت ہے۔انہوں نے کہا: ذرا فہرست گئیں تو سہی، وہ بادن تھے ، جو میں نے لکھے تھے۔دو نکل گئے، پچاس پھر باقی رہ گئے۔چنانچہ اس وقت منسٹر نے اس کی منظوری دے دی۔اور اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے اور بھی بیعتیں ہوئیں۔اور اب جو تو الو سے دو نمائندے تشریف لائے ہوئے ہیں، انہوں نے بتایا ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوسو کی جماعت وہاں قائم ہو چکی ہے۔اس رجسٹریشن کے بعد مخالفت کا ایک شور برپا ہو گیا۔اور اسمبلی میں عیسائیوں کی طرف سے شدید اعتراض اٹھائے گئے اور حکومت پر نکتہ چینی کی گئی کہ آپ نے کیوں ایک نئے مذہب کو خواہ خواہ یہاں لا کر فتنہ وفساد کا سامان پیدا کیا 651