تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 650
خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم حضور نے فرمایا:۔ونٹی جو عمارتیں خریدی جاتی ہیں یا نئے جو پلاٹ خریدے جاتے ہیں ، ان میں بعض مشکلات بھی ہوتی ہیں۔ہمارے مربیان وغیرہ بڑے اخلاص اور جوش سے لکھتے ہیں کہ بہت اچھا سودا ہورہا ہے اور توقع رکھتے ہیں کہ فوراً اجازت دے دی جائے۔اور میری طبیعت اس پر مائل نہیں ہوتی کہ اندھیرے میں اجازت دوں۔میں چاہتا ہوں کہ مجھے پوری طرح کوائف سے آگاہ کریں، حالات سے واقف کریں۔اس لئے ان کے نزدیک بعض دفعہ اچھے سودے ہاتھ سے نکل بھی جاتے ہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا تصرف کام کرواتا ہے اور وہی سودے ہاتھ سے نکلتے ہیں، جن کا لینا مناسب نہیں ہوتا۔مجھے اتنا پتہ ہے کہ ایک موقع پر جب میں نے مربی کے اصرار پر اور شدید اصرار پر اجازت دے دی کہ آپ زمین اور یہ مشن خرید لیں۔تو اس کے بعد خدا تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ و ہم ڈالا اور میں نے ان کو حکم دیا کہ بالکل نہ خریدیں۔اس سے پہلے رقم بھی ان کو بھجوا چکے تھے۔اس تجربے کا ذکر کرتے ہوئے متعلقہ مربی لکھتے ہیں کہ ہم نے امبالے مشن کے لئے ایک عمارت دیکھی تھی ، جو عین شہر کے وسط میں تھی اور اس کی خرید کے لئے رقم کی منظوری بھی مرکز سے مل گئی تھی۔عین اس وقت جب معاہدہ ہونے والا تھا، ہمیں امام جماعت احمدیہ کی ہدایت پہنچی کہ فوراً اس کام کو روک دیں اور یہ عمارت نہ خریدیں۔چنانچہ ہم نے یہ معاہدہ روک دیا اور یہ عمارت نہ خریدی۔اللہ تعالیٰ کے عجیب کام ہیں کہ ادھر مرکز سے یہ عمارت نہ خریدنے کا حکم ملا اور ادھر امبالے شہر کی ٹاؤن کونسل نے جماعت کو شہر کے عین وسط میں دس ایکڑ کا پلاٹ مفت دینا منظور کر لیا۔( نعرہ ہائے تکبیر۔احمدیت زندہ باد اور پھر صرف یہی نہیں۔اگلی بات وہ یہ لکھتے ہیں کہ اس کے چند دن کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ جو عمارت ہم خرید نے لگے تھے، اس میں دھوکا تھا۔وہ کسی اور کی عمارت تھی اور کوئی اور بیچ رہا تھا۔اور ہمارے سارے پیسے ضائع ہو جاتے اور ہمیں زمین کا ایک چپہ بھی نہ ملتا۔اس طرح اللہ تعالی اپنی تائید کے ساتھ جماعت کو غلطیوں سے بچاتا ہے۔خدا کی یہ تائید شامل حال رہی تو انشاء اللہ اس جماعت کو کوئی دھو کے باز دنیا میں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔گیمبیا سے جو ایک خوشی کی خبر ہے، وہ یہ ہے کہ وہاں یہ روچلی ہوئی ہے کہ جو نئے احمدی ہوتے ہیں، وہ مالی قربانی میں بڑی تیزی سے آگے بڑھتے ہیں اور اس طرح وہ جماعت کو بیت الذکر اور مشن ہاؤسز کے لئے پلاٹ تحفے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔اسی طرح سیرالیون اور آئیوری کوسٹ میں بھی ایسے واقعات ہیں۔مثلاً آئیوری کوسٹ میں ایک احمدی دوست نے ایک بنا بنا یا مکان اور اس کے ساتھ پلاٹ، یہ چار سو مربع میٹر کا پلاٹ ہے، جو انہوں نے بڑے اخلاص کے ساتھ جماعت کو پیش کیا ہے۔اس میں چھ کمرے پہلے سے تعمیر شدہ موجود ہیں۔650