تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 625
تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد خلاصہ خطاب فرمودہ 31 جولائی 1987 ء اس طرح بچے خلوص کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹائیں کہ آپ ان کے راہنما بن جائیں۔با دین حق کے احکامات پر دیانتداری سے عمل کرنے والوں میں شامل ہوں گئے“۔اس کے بعد فرمایا:۔پاکستان کے احمدیوں پر ان سب باتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔کیونکہ پاکستان میں بھی یہ برائیاں کثرت سے پھیل رہی ہیں۔اس لئے اخلاص کے ساتھ ان برائیوں کو مٹانے کا جہاد کریں اور اس وجہ سے کہ انہوں نے آپ کو دکھ دیتے ہیں، آپ ان کی اس حالت کا تماشہ دیکھیں اور مدد نہ کریں ، غلط ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انتباہ کو ہمیشہ یادرکھیں کہ جو تماشہ دیکھتے ہیں، وہ بھی ہلاک ہو جاتے ہیں۔اس لئے اگر جماعت احمدیہ بے حسی کا ثبوت دے گی تو اس کے امن کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔جس کی ضمانت اللہ اور اس کے رسول نے نہیں دی، وہ میں کیسے دے سکتا ہوں"۔مزید فرمایا کہ اس لئے بڑی توجہ سے اس کام پر مستعد ہو جائیں اور باہر نکلیں اور لوگوں کو برائیوں سے روکیں ، مظلوموں کی مدد کے لئے آگے بڑھیں“۔اس ضمن میں حضور نے احمدی وکلاء کی خدمات کو سراہا اور فرمایا کہ اگر وہ جماعت احمدیہ سے باہر بھی مظلوموں کی مدد کریں گے، جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور ان کی خدا کے لئے تائید کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے رزق کو کشادہ کر دے گا“۔حضور نے فرمایا:۔وو پاکستان کے احمدیوں کے لئے آج بھی ضروری ہے کہ اپنے ان بھائیوں سے بھی حسن سلوک کریں، جنہوں نے جماعت احمدیہ پرظلم ہوتے ہوئے دیکھے اور کوئی پرواہ نہ کی۔اور جنہوں نے مدد کی یا مدد کرنے کی کوشش کی ، ان سے احسان کا سلوک کریں۔اگر کوئی احمدی ہر اس فرقے کو رد کرنا شروع کر دے، جو احمد بیت میں داخل نہیں تو یہ قرآن کی تعلیم کے سراسر خلاف ہو گا۔اس لئے تقویٰ اور سچائی سے کام لیں۔اس کے بعد حضور نے افتتاحی دعا کروائی اور فرمایا کہ وو سورۃ فاتحہ بڑی عظیم الشان دعا ہے، اس لئے آج اس دعا کو مختلف انداز سے، الٹ پلٹ کر اپنی ضروریات کے مطابق دعا کریں۔مطبوعہ ہفت روزہ النصر 04 ستمبر 1987ء وضمیمہ ماہنامہ انصار اللہ اگست 1987ء) 625