تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 624 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 624

خلاصہ خطاب فرمودہ 31 جولائی 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم فضل نازل کرے گا۔قرآن بتاتا ہے کہ وہ قومیں ، جو اسلام میں نہیں ، ان کا ایک جیسا حال نہیں ہے۔بلکہ ان میں سے بعض ایسی جماعتیں ہیں، جو اپنی تعلیم پر قائم ہیں، وہ راتوں کو اٹھ کر عبادت کرتے ہیں اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں۔حضور نے فرمایا:۔جو شخص حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لایا، اس پر کفر کا فتویٰ ہی لگے گا۔لیکن یہ نہیں کہ وہ جہنم کا ایندھن ہے۔خدا سچائی کے پیمانوں سے ماپے گا۔جو تقویٰ کے اس معیار پر پورا اترتا ہے، وہ دین حق کے پیغام کو جب بھی سنے گا ، اس کو قبول کر لے گا “۔حضور نے بتایا کہ غیر قوموں اور غیر مذاہب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا ہر گز اسلامی تعلیم نہیں ہے۔بلکہ اس کا اسلامی تعلیم سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ہر قوم میں بعض خوبیاں ہیں، جن کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔اگر چہ ان میں سے اکثر بدیوں کا شکار ہیں۔لیکن مومن کی یہ شان ہے کہ الحكمة ضالة المؤمن اخذها حيث وجدها کہ وہ نیکی کو جہاں پاتا ہے، اپنی کھوئی ہوئی متاع سمجھ کر حاصل کر لیتا ہے۔اس لئے ان قوموں کی خوبیوں کو سیکھیں اور ان کی برائیوں سے دامن بچا ئیں۔لیکن برائیوں سے بچتے ہوئے خوبیوں سے انحراف کرنا درست نہیں ہے۔وہ اخلاق حسنہ، جو قرآن کریم سکھلاتا ہے، وہ جہاں بھی غیر قوموں میں دکھائی دیتے ہیں، ان کو اپنا نا اور تسلیم کرناضروری ہے۔اور پھر نیکیوں کی تعلیم دیں اور برائیوں سے روکیں۔مومن تو نیک کاموں کی نصیحت کرنے کے لئے وقف ہیں۔فرمایا:۔یہ جلسہ چونکہ اہل یورپ سے تعلق رکھنے والوں کا ہے، اس لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا جہادان پر فرض ہے۔سوسائٹی میں ہر طرف نیک بات کی نصیحت کریں اور برائیوں سے روکیں۔اور جو لوگ پہلے ہی ان کاموں میں مصروف ہیں، ان سے تعاون کریں۔کیونکہ قرآن تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى کی تعلیم دیتا ہے۔ایسی ایسوسی ایشنز ، جو غریبوں کی فلاح و بہبود کا کام کرتی ہیں، ان کے معاون اور مبر بنیں۔اور مومن کا نصب العین یہ ہے کہ وہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھتا ہے۔اس لئے 624