تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 623 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 623

تحریک جدید - ایک الہی تحریک خلاصہ خطاب فرمودہ 31 جولائی 1987ء سوسائٹی میں ہر طرف نیک بات کی نصیحت کریں اور برائیوں سے روکیں خطاب فرمودہ 31 جولائی 1987ء بر موقع جلسہ سالانہ انگلستان تشہد وتعوذ کے بعد حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدۃ کی آیات 66,67 کی تلاوت فرمائی۔ان آیات کی روشنی میں حضور نے بتایا کہ اسلام ایک حسن کامل ہے، جو دوسرے تمام مذاہب کے لئے سب سے زیادہ حوصلہ سکھلاتا اور دوسرے مذاہب کی عزت اور احترام سکھلاتا ہے۔اور قرآن کریم نے ہمہ گیر نظریہ پیش کیا ہے کہ خدا نے دنیا کے ہر حصے میں، ہر قوم کے لئے نذیر بھجوائے ہیں، جن کا احترام ضروری ہے۔یہاں تک کہ اسلام جھوٹے خداؤں کا بھی عزت کے ساتھ نام لینے کی تعلیم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں سب و شتم نہ کرو“۔حضور نے بتایا کہ یہ ایک ایسا اصول ہے، جو امن کی ضمانت دیتا ہے، اس لئے اس کی پیروی کی ضرورت ہے۔قرآن کریم نے اس اصول کو پیش کر کے حیرت انگیز عظیم الشان حو صلے کا مظاہرہ کیا ہے کہ وہ لوگ، جو ایمان لائے اور جو یہودی کہلاتے ہیں اور عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے، جو کسی نہ کسی کتاب سے منسوب ہوتے ہیں، ان میں جو بھی اخلاص کے ساتھ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے، اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔مزید فرمایا کہ دنیا کی کسی کتاب میں اس مضمون کی کوئی آیت دکھائی نہیں دیتی۔اور اس مضمون میں عام وسیع تر انسانی اصول بیان کیا گیا ہے، جس پر تمام دنیا کے انسان پر کھے جائیں گے“۔فرمایا:۔اسلام کی ضرورت سے کوئی مفر نہیں۔لیکن جو اپنے اعمال میں بچے ہیں، جب تک اسلام کی توفیق نہیں پاتے اللہ تعالی ان پر اپنے فضل نازل فرماتا ہے۔چنانچہ قرآن فرماتا ہے کہ تم اپنے ایمان کی سچائی تو ثابت کرو اور جس تو رات اور انجیل پر ایمان لاتے ہو، اس کو قائم تو کر کے دکھاؤ۔اللہ تعالیٰ تم پر اتنے 623