تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 593
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد؟ خلاصہ خطاب فرموده 14 جون 1987 ء کی باتیں نظر آتی ہیں۔لیکن فی الحقیقت ان کے نیچے، ان کے اندر ایک بہت گہر انا سور ہے، جو رس رہا ہے۔ایک بہت بڑا دکھ ہے، جس کی علامتوں کے طور پر ان سے یہ حرکتیں سرزد ہو رہی ہیں۔ان کی بھاری اکثریت آج اپنے ماضی سے پوری طرح غیر مطمئن ہو چکی ہے۔اپنے ماضی پر انہیں کوئی اعتبار نہیں اور کوئی یقین نہیں رہا۔اور ایک بھیانک مستقبل ہے، جو غیر یقینی مستقبل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس طرح گھور رہا ہے، جس طرح کوئی بلا کسی پر جھپٹنے کے لئے اس کو گھور رہی ہوتی ہے۔خوفناک ہتھیار اور ایسے خوفناک ہتھیار، جو اگر تمام کے تمام اس دنیا میں استعمال ہوں تو دنیا کی بھاری اکثریت کو کلیتہ صفحہ ہستی سے مٹاڈالیں ، بڑے بڑے ممالک کو رہائش کے قابل نہ رہنے دیں۔صدیوں وہاں ویرانیاں بسیں اور آبادیوں کا کوئی سوال باقی نہ رہے۔ایسے خطرناک ہتھیار یہ خود ایجاد کر چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ۔اخلاقی قدروں کے لحاظ سے اتنی مضبوط نہیں ہے کہ ان ہتھیاروں کے معاملے میں ان پر اعتماد کیا جا سکے۔وہ جانتے ہیں کہ کسی وقت بھی کوئی غیر ذمہ دار لیڈر ایسی حرکت کر سکتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں ان ہولناک ایٹمی ہتھیاروں کی لڑائی شروع ہو جائے۔۔پس یہ دو بلاؤں کے درمیان پس رہے ہیں۔ایک ماضی سے بے اطمینانی، اپنی ہر روایت سے بے اطمینانی اور ایک مستقبل پر عدم اعتماد اور یہ یقین کہ ہماری کوئی منزل نہیں اور ہمارا کوئی رخ نہیں۔ان دونوں مصیبتوں کے درمیان گھر کر ان کی فطرت نے ایک بغاوت کی ہے۔اس بغاوت کا اظہار اس نئی طرز کا ناچ گانے، نئی طرز کے لباس ، نئی طرز کے انداز میں ہو رہا ہے۔جس کی ہر ہر ادا ماضی سے بغاوت کا اعلان کر رہی ہے اور مستقبل پر بے اطمینانی کا اظہار کر رہی ہے۔حضور نے فرمایا:۔وو یہ وہ صورت حال ہے، چند گنتی کے احمدی یہ دعوئی لے کر اٹھتے ہیں کہ ہم ان قوموں کو اطمینان بخشیں گے، ہم ان کے لئے دائمی سکینت لے کر آئیں گے، ہم ان کی طمانیت کے سامان لے کر آئیں ہیں۔اور وہ سارے خلاء، جو ان کی فطرت میں پیدا ہو کر ان کے سینوں کو ویرانے بنا رہے ہیں، ان سب خلاؤں کو نہایت ہی حسین و دلکش بہاروں سے ہم نے بھرنا ہے۔یہ دعویٰ لے کر جماعت احمدیہ کے چند نوجوان، چند بوڑھے، چند عورتیں، چند بچے ان ملکوں میں ایک نیا روحانی انقلاب پیدا کرنے میں کوشاں ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے آپ کو بیان کیا ہے۔محض یہ دعویٰ کسی کام نہیں آئے گا۔کیونکہ دعوؤں سے یہ لوگ تھک چکے ہیں ، بیزار ہو چکے ہیں۔ان کو عملاً ایک تسکین بخش نظریے کی نہیں بلکہ ایک تسکین بخش نمونے 593