تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 592
خلاصہ خطاب فرموده 14 جون 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم دوسرے محض دعویٰ اور دلائل سے یہ آپ کی بات نہیں مانیں گے۔دعوئی اور دلائل کے ذریعہ تو عیسائیت نے بھی بہت لمبا عرصہ ان کے دل و دماغ پر حکومت کی ہے۔اور آج کی نئی نسلیں ان کے طلسم سے با ہر آرہی ہیں۔آج کی نئی نسلوں پر وہ جادو ٹوٹ چکا ہے اور وہ یہ عزم لے کر اٹھی ہیں کہ ہم کسی نظریے اور کسی دعوی کو نظریات کی بنا پر قبول نہیں کریں گی۔بلکہ ہمیں لازم سچائی کو دیکھنا ہوگا اور پرکھنا ہوگا۔جب تک سچائی کو ہم شہدات کی دنیا میں اپنے سامنے دیکھ نہ لیں اور محسوس نہ کر لیں، اس وقت تک ہم اس کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے۔الفاظ میں تو یہ اعلان نہیں لیکن عملاً آج کا نئے دور کا یورپین نو جوان یہی اعلان کر رہا ہے۔گزشتہ تمام نظریات اور تہذیبی تقاضوں اور تمدنی اقدار کے خلاف وہ علم بغاوت بلند کر چکا ہے۔حضور نے فرمایا:۔ان کے سامنے جب آپ اپنا دین پیش کریں گے تو محض زبانی دعوؤں پر ہر گزا سے تسلیم نہیں کریں گے۔اگر زبانی دعوؤں سے ہی کسی مذہب کو قبول کرنا ہوتا تو عیسائیت کے قبضہ سے نکل کر یہ باہر کی طرف سفر کیوں شروع کرتے۔جب میں کہتا ہوں کہ عیسائیت کے قبضہ سے نکل کر تو ممکن ہے کہ بہت سے یورپین عیسائی اس بات پر بر امنائیں۔اور وہ یہ سمجھیں کہ یہ بات درست نہیں۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یورپ میں جہاں جہاں بھی میں نے سفر کیا اور جہاں جہاں بھی پریس کو انٹر ویو دیئے اور اصحاب علم و دانش سے ملاقاتیں کیں، وہاں ان سب مذاکرات کے بعد گفت و شنید کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ لوگ، جو سچائی کے ساتھ اپنے معاشرہ کا مطالعہ کر رہے ہیں، وہ سب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اب عیسائیت کا تسلط یورپین ممالک پر بے حد کمزور ہو چکا ہے اور وہ لوگ، جو نظریات کے لحاظ سے عیسائی ہیں بھی۔بہت تھوڑے سے ان میں سے ہیں، جو فی الحقیقت کامل یقین کے ساتھ عیسائیت کے متبع ہیں۔اس پر پورا ایمان رکھتے ہیں اور اس ایمان کو اپنے عمل میں ڈھال رہے ہیں“۔یورپین معاشرے کے دکھوں کے حوالے سے حضور نے بیان فرمایا:۔وو یه روز بروز جونئی زندگی کی دلچسپیوں اور مشاغل کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے، نئے نئے ناچ گانوں کی قسمیں، نئی نئی لذت یابی کے سامان۔پھر تمدن اور اقدار کے خلاف بغاوت، اپنی روایات کے خلاف بغاوت، اپنے لباس کی طرز میں بغاوت، اپنے ہر رحجان میں ایک باغیانہ طرز کو اختیار کرنا، اپنے سر کے بالوں کے جیسے بگاڑ دینے ، اچھے بھلے لباس کو تار تار کر کے اس طرح پہنا کہ گویا پھٹا ہوا لباس ہی ان کی نمایاں شان کے مطابق ہے اور اچھا لباس ان کے شان گرانے والا ہوگا۔بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں پاگل پن 592