تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 591 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 591

تحریک جدید - ایک الہلی تحریک خلاصہ خطاب فرمودہ 14 جون 1987ء جانوں سے کھیل کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، ٹیررازم کی تعلیم دیتے ہیں۔چنانچہ بڑی لمبی تحقیق انہوں نے کی۔جہاں جہاں احمدیت پہلے سے پوری طرح جاگزیں ہو چکی تھی ، اپنی جگہ بنا چکی تھی، ان ممالک سے انہوں نے رابطے کئے اور آخر یہ تسلیم کیا کہ اگر احمدیت کو وہاں رجسٹر ہونے کی اجازت دی جائے تو ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔پس جماعت احمدیہ جس دین کو پیش کرنا چاہتی ہے، وہ قدیم ترین بھی ہے اور جدید ترین بھی۔قدیم ترین اس لئے کہ وہ دین حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے۔وہ حسین چہرہ ہمارے دین کا جو لوگوں کو فریفتہ کر لیتا ہے، جو دشمنوں کو بھی عاشق بنانے کی طاقت رکھتا ہے، جو انسانی طاقتوں کو رفتہ رفتہ اس طرح جلا بخشتا چلا جاتا ہے کہ انسان خواہ دنیا کے لحاظ سے کتنا ہی اعلیٰ اخلاقی مقام پر بھی فائز ہو، دین کی برکت سے اسے نئی رفعتیں عطا ہوتی ہیں۔یہ وہ دعوی ہے، جو لے کر ہم ان ممالک میں آئے ہیں اور اس دعوی کو اپنے اعمال سے سچا ثابت کرنا ، ہمارا کام ہے۔یور بین قوموں کی ذہانت کے متعلق فرمایا:۔اگر ہم یہ دعوی زبانی پیش کرتے رہے تو یہ خیال مت کریں کہ یہ تو میں اس زبانی دعوئی سے دھو کہ کھا جائیں گے۔یہ بڑے ذہین لوگ ہیں۔دنیا کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔لمبی علمی جستجو کے ذریعہ مشاہداتی دنیا میں اپنے نظریات کو بار بار پر کھنے کے بعد ان میں خدا تعالیٰ نے اس فطری ملکہ کو بہت جلا بخش دی ہے، جو ہر انسان کو عطا ہوتی ہے۔لیکن بعض لوگ اسے بار بار استعمال کر کے اور اس میں مزید بہتری کے نقوش پیدا کرتے ہوئے اسے ایک بلند مقام تک پہنچا دیتے ہیں اور وہ فطری ملکہ ہے۔کسی دعویدار کے دعوی کو پرکھنا، کسی دعویدار کے دعوی کی پہچان کرنا۔قوموں میں لمبے تجربہ کی وجہ سے یہ ملکہ خود چمک اٹھتا ہے۔یہ تو میں لمبے عرصہ سے تاجر قوموں کے طور پر دنیا کے سامنے ظاہر ہوئیں اور تجارت کی قوت کے ساتھ انہوں نے تمام دنیا میں نفوذ حاصل کیا اور عروج حاصل کیا۔اس لئے ان کے اندر پیچان کا ملکہ خاص ترقی پا چکا ہے۔ہر چیز کو پر کھ کر جان کر یہ معلوم کرنے کے عادی ہو چکے ہیں کہ دعوی سچا بھی ہے کہ نہیں؟ اور یہ چیز مفید بھی ہے کہ نہیں؟ پس ان کے سامنے اپنے دین کو پیش کرنا یعنی اس دین کو، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حسین دلکش مذہب تھا، دو طرح سے ہمارے لئے بہت ہی مشکل امر ہے۔اول یہ کہ ہمارے دین کی پہلی تصویر جوان ذہنوں پر قائم ہے، وہ بہت ہی بگڑی ہوئی ہے۔ان نقوش کو پہلے ہمیں مٹانا ہوگا۔591