تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 590
خلاصہ خطاب فرمودہ 14 جون 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم آباد ہوئے ہیں۔کچھ یہیں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ ہمیں سعید روحیں عطا کی ہیں، ان میں ہمارا دین ابھی بالکل نیا ہے۔ہمارا دین ان معنوں میں نیا ہے، جن معنوں میں جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے۔یعنی حسن و احسان کا سر چشمہ۔ایک ایسا دین، جو کامل حسن رکھتا ہو اور کامل طور پر اپنے متبعین کو حسین بنانے کی طاقت بھی رکھتا ہو، یہ دین ان لوگوں کے لئے بالکل نیا ہے۔وہ دین ، جس سے یہ متعارف ہیں، وہ دین کی صدیوں سے بگڑی ہوئی صورت ہے۔جسے بگاڑنے میں بدقسمتی سے خود مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اور کچھ بد قسمتی سے ان کے علماء نے ، جو مستشرقین کہلاتے ہیں، ایک افسوسناک کردار ادا کیا۔انہوں نے اپنی کتب میں، اپنے لٹریچر میں، اپنے اخبارات میں ہر قسم کے علمی ذرائع اختیار کرتے ہوئے پہلے ہی سے ان کو ہمارے دین سے بہت حد تک بدظن کر رکھا تھا اور بالکل غلط شکل دین کی بنا کر ان کے سامنے پیش کی ہوئی تھی۔جس کی وجہ سے جب بعد ازاں اس نئے دور میں بعض اسلامی ممالک کی طرف سے یا بعض اسلامی تحریکات کی طرف سے کچھ اس سے ملتی جلتی حرکتیں ہونی شروع ہوئیں، جو تصویر ان کے علماء نے ان کے سامنے پہلے ہی کھینچ رکھی تھی تو انہوں نے کامل طور پر یقین کر لیا، جو ہمارے بڑے، ہمارے صاحب علم کہا کرتے تھے، وہ درست بات تھی۔اور یہ دین ایک جبر کا اور ایک استبداد کا مذہب ہے۔یہ تلوار ، جبر کامذہ کے زور سے دلوں کو جیتنے کا دعویٰ کرتا ہے۔یہ قوت بازو سے سروں کو ختم کرنے کے لئے پیدا ہوا ہے۔اور انسانیت کو تار یک ماضی کی طرف لوٹانے کے لئے آیا ہے۔یہ دین ظلم ، جہاد اور فساد کی تعلیم دیتا ہے۔غرضیکہ ہر وہ چیز ، جو اس نئی دنیا میں ماضی میں پیچھے رہ گئی تھی ، وہ جبر واستبداد کی تمام کہانیاں ، جو قصوں میں سنا کرتے تھے۔بدقسمتی سے اس کی کوئی نہ کوئی عملی صورت آج کی دنیا میں بعض مسلمان ممالک نے ان کے سامنے پیش کی۔چنانچہ ان کا دین حق کا تصور اتنا بگڑا ہوا ہے، اتنا بھیانک ہے کہ بسا اوقات یہ ہمارے دین کے نام سے بھی خوف کھاتے ہیں کہ جہاں بھی یہ دین داخل ہونا شروع ہوا، اس کے پیچھے فتنہ وفساد ضرور داخل ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کو ان یورپین ممالک میں جہاں ابھی احمد بیت پوری طرح صحیح مذہب کو متعارف نہیں کرواسکی ، وقتیں پیش آتی ہیں۔آسٹریا میں مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔”جب آسٹریا میں ہم نے مشن قائم کرنے کی کوشش کی تو تقریباً ڈیڑھ، دو سال حکومت کو یہ اطمینان کرنے میں لگے کہ ہم اس قسم کے لوگ نہیں ہیں، جو خنجر کے ساتھ اور تلوار کے ساتھ اور توپ و تفنگ کے ساتھ دلوں کو جیتنے کا دعویٰ کرنے والے لوگ ہیں۔اس قسم کے لوگ نہیں ہیں، جو معصوم انسانوں کی و 590