تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 558 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 558

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 اپریل 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم ہیں، اس طرح گریہ وزاری کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے ، روتے ہوئے وقف کئے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے، ان کو دیکھ کر۔پس اگلی صدی کو شدید ضرورت ہے کہ جماعت کے ہر طبقے سے لکھوکھا کی تعداد میں واقفین زندگی ایک صدی کے بعد ہم دراصل خدا کے حضور تحفہ پیش کر رہے ہوں گے۔لیکن استعمال تو اس صدی کے لوگوں نے کرنا ہے، بہر حال یہ تحفہ ہم اس صدی کو دینے والے ہیں۔اس لئے جن کو بھی توفیق ہے، وہ اس تحفے کے لئے بھی تیار ہو جائیں۔ہو سکتا ہے اس نیت کی، اس نذر کی برکت سے بعض ایسے خاندان ، جن میں اولاد نہیں پیدا ہورہی اور ایسے میاں بیوی جو کسی وجہ سے اولاد سے محروم ہیں، اللہ تعالیٰ اس قربانی کی روح کو قبول فرماتے ہوئے ، ان کو بھی اولاد دے دے۔خدا تعالیٰ اس سے پہلے یہ کر چکا ہے۔جو انبیاء اولاد کی دعائیں مانگتے ہیں، وقف کی خاطر مانگتے ہیں۔تو بعض دفعہ بڑھاپے میں بھی تو اولاد ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں بھی ہو جاتی ہے کہ بیوی بھی بانجھے اور خاوند بھی۔حضرت زکریا علیہ السلام کو دیکھیں کس شان سے دعا کی تھی۔یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں میرا سر بھڑک اٹھا ہے، بڑھاپے کے شعلوں سے اور ہڈیاں تک گل گئیں اور میری عاقر یعنی اس میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہی کوئی نہیں ہے۔لیکن میری یہی تمنا ہے کہ تیری راہ میں ایک بچہ پیش کروں، اس لئے میری تمنا کو قبول فرما۔وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّا (مریم: 05) اے میرے رب! میں تیرے حضور یہ دعا کرتے کرتے کبھی بھی مایوس نہیں ہوا۔میں کبھی بھی تیرے حضور مایوس نہیں ہوا۔شقیا کا لفظ حیرت انگیز فصاحت و بلاغت رکھتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا! میں ایسا بد بخت تو نہیں کہ تیرے حضور دعا کر رہا ہوں اور مایوس ہو جاؤں اور تھک جاؤں۔اس عظمت کی ، اس درد کی دعا تھی کہ اسی وقت دعا کی حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے بیٹی کی خوشخبری دی۔خود اس کا نام رکھا اور اس میں بھی عظیم الشان خدا کے پیار کا اظہار ہے۔عجیب کتاب ہے قرآن کریم۔ایسی ایسی پیار کی ادائیں سکھاتی ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔آپ کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے، آپ سوچتے ہیں، کس سے نام رکھواؤں۔اور اسی جذبہ، جو لہی محبت سے جماعت احمدیہ کو ہر خلیفہ وقت سے ہوتی ہے، بعض لوگ بلکہ بڑی کثرت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ نام 558