تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 557 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 557

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 اپریل 1987ء پس میں نے یہ سوچا کہ ساری جماعت کو میں اس بات پر آمادہ کروں کہ اگلی صدی میں داخل ہونے سے پہلے جہاں روحانی اولاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، دعوت الی اللہ کے ذریعے ، وہاں اپنے آئندہ ہونے والے بچوں کو خدا کی راہ میں ابھی سے وقف کر دیں۔اور یہ دعا مانگیں کہ اے خدا! ہمیں ایک بیٹا دے لیکن اگر تیرے نزدیک بیٹی ہی ہمارے لئے مقدر ہے تو ہماری بیٹی ہی تیرے حضور پیش ہے۔مافی بطنی جو کچھ بھی میرے بطن میں ہے۔یہ مائیں دعائیں کریں اور والدین بھی ابراہیمی دعائیں کریں کہ اے خدا! انہیں اپنے لئے چن لے اور اپنے لئے خاص کر لے۔تیرے ہو کر رہ جائیں۔اور آئندہ صدی میں ایک عظیم الشان بچوں کی فوج ساری دنیا سے اس طرح داخل ہو رہی ہو کہ وہ دنیا سے آزاد ہورہی ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کے غلام بن کے اس صدی میں داخل ہو رہی ہو۔چھوٹے چھوٹے بچے ہم خدا کے حضور تحفے پیش کر رہے ہیں۔اور اس کی شدید ضرورت ہے، آئندہ سو سالوں میں۔جس کثرت سے اسلام نے ہر جگہ پھیلنا ہے، وہاں لاکھوں تربیت یافتہ غلام چاہئیں، جو حجم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا کے غلام ہوں۔واقفین زندگی چاہئیں، کثرت کے ساتھ۔اور ہر طبقہ زندگی کے ساتھ واقفین زندگی چاہئیں، ہر ملک سے واقفین زندگی چاہئیں۔اس سے پہلے جو ہم تحریک کرتے رہے ہیں، بہت کوشش کرتے رہے لیکن بعض خاص طبقوں نے عملاً اپنے آپ کو وقف زندگی سے مستنی سمجھا۔اور عملاً جو واقفین سلسلہ کو ملتے رہے، وہ زندگی کے ہر طبقے سے نہیں آئے۔بعض بہت صاحب حیثیت لوگوں نے بھی اپنے بچے پیش کئے لیکن بالعموم دنیا کی نظر میں جس طبقے کو بہت زیادہ عزت سے نہیں دیکھا جاتا ، درمیانہ درجہ کا غریبانہ جو طبقہ ہے، اس میں سے وہ بچے پیش ہوتے رہے۔اس طبقے کے ان واقفین زندگی کا آنا، ان واقفین زندگی کی عزت بڑھانے کا موجب ہے، عزت گرانے کا موجب نہیں۔لیکن دوسرے طبقے سے نہ آنا، ان طبقوں کی عزت گرانے کا ضرور موجب ہے۔پس میں اس پہلو سے مضمون بیان کر رہا ہوں۔ہر گز کوئی یہ غلط فہمی نہ سمجھے، نعوذ بالله من ذالک جماعت محروم رہ جائے گی اور جماعت کی عزت میں کمی آئے گی۔اگر ظاہری عزت والے لوگ اپنے بچے وقف نہ کریں، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان خاندانوں کی عزتیں باقی نہیں رہیں گی ، جو بظاہر دنیا میں معزز اور خدا کے نزدیک وہ خود اپنے آپ کو آئندہ ذلیل کرتے چلے جائیں گے ، اگر خدا کے حضور انہوں نے اپنے بچے پیش کرنے کا گر نہ سیکھا۔اور یہ سنت انبیاء ہے۔انبیاء کے بچوں سے زیادہ معزز بچے اور کوئی بچے دنیا میں نہیں ہو سکتے۔انہوں نے اس عاجزی سے وقف کئے ہیں، اس طرح منتیں کر کے وقف کئے 557