تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 556
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 اپریل 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم اباد رَبِّ إِنِّى نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلُ مِنِّى إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (آل عمران: 36) کہ میرے رب! جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے، میں تیرے لئے پیش کر رہی ہوں نہیں پتا کیا چیز ہے؟ لڑکی ہے یا لڑکا ہے؟ اچھا ہے یا برا ہے؟ مگر جو کچھ ہے، وہ سب کچھ تمہیں دے رہی ہوں تو فتقبل منی ، مجھ سے قبول فرما۔انک انت السمیع العلیم تو بہت ہی سنے والا اور جاننے والا ہے۔وہ سنتا ہے اور علم رکھتا ہے، اس کا اس مضمون کا الگ تعلق ہے۔اس لئے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت مگر بہر حال یہ دعا، حضرت مریم کی والدہ ، جو آل عمران سے تھیں کی ، خدا تعالیٰ کو ایسی پسند آئی، جسے قرآن کریم میں آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر لیا۔اور پھر حضرت ابراہیم کی دعا اپنی اولاد کے متعلق اور دوسرے انبیاء کی دعائیں اپنی اولاد سے متعلق یہ ساری قرآن کریم نے محفوظ فرما دیں۔بعض جگہ آپ کو ظاہر طور پر وقف کا مضمون نظر نہیں آئے گا۔جیسا کہ یہاں آیا ہے، محررًا۔اے خدا! میں تیری راہ میں اس بچے کو وقف کرتی ہوں۔لیکن بسا اوقات آپ کو یہ دعا نظر آئے گی کہ اے خدا جو نعمت تو نے مجھے دی ہے، وہ میری اولاد کو بھی دے۔اور ان میں بھی انعام جاری فرما۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اس رنگ میں دعا کی۔لیکن حقیقت میں اگر آپ غور کریں تو جو انعام مانگا جارہا ہے، وہ وقف کامل ہے۔کامل وقف کے سوا نبوت ہو ہی نہیں سکتی۔اور سب سے زیادہ بنی نوع انسان سے آزاد یعنی محر ر اور خدا کی غلامی میں جکڑا جانے والا نبی ہوتا ہے۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص یہ دعا کرتا ہے کہ میری اولاد میں نبوت کو جاری فرما تو اس دعا کا حقیقی معنی یہ ہے میری اولاد کو ہمیشہ میری طرح غلام در غلام در غلام بنا تا چلا جا۔اپنی محبت میں ، اپنی اطاعت میں جکڑتا چلا جا۔اتنا کامل طور پر جکڑ لے کہ دنیا میں کوئی آزادی کا پہلو نہ رہے۔تو محررا کے مقابل پر دنیا سے آزاد کر کے میں تیرے سپرد کرتی ہوں۔یہ مضمون اور بھی زیادہ بالا ہے وقف کا کہ میری اولاد کو تو اپنی غلامی میں جکڑ لے اور کوئی پہلو بھی آزاد نہ رہنے دے۔بہر حال یہ بھی ایک پہلو ہے کہ جو کچھ تھا، وہ تو دیا خدا کی راہ میں لیکن جو بھی ہاتھ میں نہیں آیا ، وہ بھی پیش کرنے کی تمنار کھتے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی چلہ کشی کی تھی۔اس مضمون میں چالیس دن یہ گریہ زاری کرتے رہے، دن رات کہ اے خدا! مجھے اولاد دے اور وہ دے جو تیری غلام ہو جائے ، میری طرف سے تحفہ ہو ، تیرے حضور۔556