تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 555 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 555

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہی اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 03 اپریل 1987 ء زیادہ پیاری چیز دیتا ہے تو اس کے دل میں اطمینان رہ جاتا ہے کہ کچھ کم میں نے اپنے لئے بھی روک لی ہے۔اس سے کم جب پیاری دے دیتا ہے تو پھر اس کو کچھ نہ کچھ اپنے ہاتھ میں بھی دکھائی دیتا ہے۔اور وہ پھر اس کے بعد اس سے سب سے زیادہ پیار ہو جاتا ہے۔جو چیز پیچھے بہتی چلی جاتی ہے، وہ زیادہ پیاری ہوتی چلی جارہی ہوتی ہے۔کسی ماں کا سب سے لاڈلا بچہ مرجائے تو دوسرے بچے سے پہلے سے بڑھ کر۔پیار ہو جاتا ہے۔اور یہ مضمون انسانی فطرت کے ہر پہلو پر حاوی ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سودا نہیں کیا کہ اے خدا! میں نے اپنی سب سے پیاری چیز جب پیش کر دی یعنی اپنی جان دے دی، اس لئے اب باقی چیزیں میری رہ گئیں لیکن فرمایا:۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ (الانعام: 163) اے محمد ! تو محبت کرنا سکھا، ان غلاموں کو۔یہ تیرے غلام بن چکے ہیں مگر نہیں جانتے کس طرح مجھ سے محبت کی جائے۔تو محبت کے راز بتا، ان کو۔ان سے پتا چلتا ہے کہ خدا کا حکم نہ ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در پردہ عشق کے راز نہ بتاتے کسی کو۔یہ بھی ایک عجیب حسین پہلو ہے، جو میری نظر میں ابھرا اور بے ساختہ دل اور فریفتہ ہو گیا۔بعض جگہ حکماً خدا تعالیٰ نے اپنے راز و نیاز کی باتیں بنی نوع انسان کو بتانے پر پابند فرما دیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ورنہ نہ بتاتے تو لوگوں کو پتا چلتا اتنا حسین ہے۔اس شان کا نبی ، جو اس قدر منکسر المزاج ہو، اس کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے حسن پر پردے ڈالتا چلا جاتا ہے اور اپنی کمزوریاں چھپاتا نہیں۔اور یہی بنیادی فرق ہے، مادہ پرست اور خدا پر ست میں۔مادہ پرست اپنی کمزوریوں پر پردے ڈالتا چلا جاتا ہے اور اپنے معمولی سے حسن کو بھی اچھالتا اور دکھاتا اور اس کی نشو ونما کرتا ہے۔اور پلیٹی اس کی زندگی کے ہر شعبے کا ایک جزو لا ینفک بن جاتی ہے۔تو خدا تعالی نے حکماً رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پابند فرمایا کہ تیری بعض خوبیاں، جو میری نظر میں ہیں، تیرے غلاموں کا بھی حق ہے کہ ان کو پتا چلے۔اس لئے کہ تا وہ تمہاری پیروی کر کے مجھ تک پہنچنا سیکھ جائیں۔ان میں سے ایک یہ تھا کہ اپنا سب کچھ دے دو۔چنانچہ انبیاء کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنا سب کچھ دینے کی خاطر یہ سوچتے سوچتے کہ ہم اور کیا دیں اور کیا دیں؟ اپنی اولادیں بھی پیش کرتے ہیں۔اور بعض دفعہ ابھی اولاد پیدا بھی نہیں ہوتی تو پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ابرار کی یہ سنت ہے، انبیاء کے علاوہ جیسے حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ نے یہ التجاء کی خدا سے:۔555