تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 554
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 03 اپریل 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم کے ہر جزو میں داخل کر دیا ہے، اس تفصیل کے ساتھ آپ کو کسی اور مذہب میں محبت کے فلسفے کا بیان نہیں ملے گا۔فرمایا:۔لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ تم نیکی کو جانتے ہی نہیں۔تمہیں پتا ہی کیا ہے، نیکی کیا ہوتی ہے؟ اگر یہ بات سیکھو تو خدا کی راہ میں سب سے اچھی چیز سب سے پیاری چیز قربان کرنا نہ شروع کر دو یا خدا کی راہ میں اپنی سب سے پیاری چیز دینے کی تمنا اگر تمہارے دل میں پیدا نہیں ہوتی تو تم نیکی کونہیں جانتے۔اس کسوٹی پر جب ہم انبیاء کو پر کھتے ہیں اور خصوصاً حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ چیز درجہ کمال کو پہنچی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔بہت سے انسان ایسے ہیں، جو محبت کرتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ ہمیں اچھی چیز پیش کرنی چاہئے۔اور پھر سوچتے ہیں اور متر دورہتے ہیں، یہ پیش کروں یا وہ پیش کروں، یہ پیش کروں کہ وہ پیش کروں؟ چنانچہ صوفیاء کے بھی بہت سے دلچسپ واقعات اس میں ملتے ہیں اور عام دنیا میں محبت کرنے والوں کے بھی بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ ایک خیال آیا، یہ مجھے چیز سب سے زیادہ پیاری ہے۔پھر خیال آیا کہ نہیں یہ زیادہ پیاری ہے۔پھر خیال آیا کہ زیادہ پیاری ہے اور پھر آخر وہی پیش کی۔چنانچہ ہمایوں کے متعلق بھی بابر نے جب یہ سوچا کہ ہمایوں کی زندگی بچانے کے لئے میں خدا کے سامنے اپنی کوئی پیاری چیز پیش کروں۔تو کہتے ہیں کہ بابر اس کے گرد گھومتا رہا اور اس نے سوچا کہ میں یہ ہیرا ، جو بہت پیارا ہے، یہ دے دوں۔اسے خیال آیا، یہ ہیرا کیا چیز ہے؟ میں یہ دے دوں۔پھر خیال آیا کہ پوری سلطنت مجھے بہت پیاری ہے۔یہ پوری سلطنت دے دیتا ہوں۔اور پھر سوچتارہا۔پھر آخر اس کو خیال آیا، اس کے نفس نے اس کو بتایا کہ تمہیں تو اپنی جان سب سے زیادہ پیاری ہے۔اس وقت اس نے عہد کیا اور خدا سے دعا کی کہ اے خدا!! واقعی اب میں سمجھ گیا ہوں کہ مجھے سب سے زیادہ پیاری چیز میری جان ہے۔میری جان لے لے اور میرے بیٹے کی جان بچالے تاریخ میں لکھا ہے کہ واقعہ اس وقت کے بعد سے ہمایوں کی صحت سدھرنے لگی اور بابر کی صحت بگڑنے لگی۔تو لوگ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کیا چیز پیاری ہے اور کیا کم پیاری ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں سوچا بلکہ اپنا سب کچھ پیش کر دیا۔اپنا سونا، جاگنا، اٹھنا ، بیٹھنا۔چونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی ہر چیز پیاری ہوتی ہے، اپنی ہر چیز پیاری ہوتی ہے۔اور جب وہ 554