تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 553 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 553

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 03 اپریل 1987ء وو کامل وقف کے سوانبوت ہو ہی نہیں سکتی خطبہ جمعہ فرمودہ 03 اپریل 1987ء۔اس مضمون کے جو چند پہلو ہیں، آج بیان کرنا چاہتا تھا، وقت چونکہ تھوڑا ہو رہا ہے، اس لیے ان چند کا بیان بھی چلے گا، لیکن میں نے آپ سے گزشتہ خطبے میں یہ ذکر کیا تھا کہ میں ایک تحریک جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، جس کا اس مضمون سے تعلق ہے۔حقیقت یہ ہے کہ محبت کے نتیجے میں انسان تحائف پیش کرتا ہے۔اور قرآن کریم نے ہر چیز جو خدا کی راہ میں پیش کی جاتی ہے، اس کے ساتھ محبت کی شرط لگادی ہے۔بلکہ نیکی کی تعریف میں محبت کے تحفے کو بطور شرط کے داخل فرما دیا۔فرمایا:۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ( آل عمران : 93) کہ تم نیکی کی گرد کو بھی نہیں پاسکتے۔نیکی کی باتیں کرتے ہو، تمہیں پتا کیا ہے کہ نیکی کیا ہے؟ تم نیکی کی گرد کو بھی نہیں پاسکو گے، اگر یہ راز جان لو کہ خدا کے راستے میں وہ خرچ کرو، جس سے تمہیں محبت ہے۔اپنی محبوب چیز ، اس کو خدا کی راہ میں پیش کرنا سیکھو۔پھر ہاں تم کہہ سکتے ہو کہ ہاں ، ہم نے نیکی کا مفہوم سمجھ لیا ہے۔تو وہاں بھی محبت ہی کا مضمون جاری ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے بعض دفعہ عیسائیوں کے اس ادعا پر کہ اسلام کو محبت کا کیا پتا؟ محبت کی تعلیم تو عیسائیت نے سکھائی ہے۔میں حضرت مسیح کی تعلیم کا کچھ نا کچھ اقتباسات بھی ساتھ لے کر آیا تھا مگر اب ان کو پڑھ کر سنانے کا وقت نہیں ہے۔اسے آپ پڑھ کہ دیکھیں آپ کو نمایاں فرق محسوس ہوگا کہ اسلام کی محبت کی تعلیم اتنی وسیع ، اتنی کامل ہے کہ اگر چہ مسیح کی محبت کی تعلیم تو بہت ہی حسین ہے، بہت ہی دلکش ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن جب مقابلے پر رکھتے ہیں، یوں لگتا ہے کہ اس چہرے پر نور نہیں رہا ، پھیکی پڑنے لگ جاتی ہے، اسلام کی تعلیم کے مقابلے پر۔لیکن ہرگز اپنی ذات میں وہ حسن سے خالی نہیں۔بہت ہی پیاری، بہت دلکش تعلیم اس سے کوئی انکار نہیں۔مگر اسلام نے جس طرح اس محبت کی تعلیم کو انسانی زندگی ہے۔553