تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 534 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 534

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 06 فروری 1987 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم ایسے لوگوں کے نزدیک، جو زندگی میں کوئی اہم کردار ادا کرے، کوئی مؤثر کردار ادا کرے۔تو وہ کہتے ہیں اول تو دعا کی کوئی اہمیت نہیں۔دوسرے وہ دوست لکھتے ہیں کہ مجھے ایک اور لطف بہت آیا کہ ہم جب جن لوگوں کو کبھی رسما دعا کے لئے کہنے جاتے ہیں، پیروں اور بزرگوں کو تو کبھی انہوں نے آگے سے یہ نہیں کہا کہ تم اپنے لئے بھی دعا کرو اور با قاعدہ کرو۔وہ سمجھتے ہیں صرف ان کی دعا کی طاقت ہے۔اور وہ ہے ہی نہیں۔اور یادہ ہاتھ اٹھا کر نیچے گرا دیتے ہیں یاوہ کہتے ہیں، ہم آپ کے لئے دعا کر دیں گے اور کام ہو جائے گا۔کہتے ہیں، میں نے جب بیعت کی تو میں نے آپ سے دعا کے لئے کہا تو آپ نے اسی وقت مجھے کہا کہ ہاں میں بھی کروں گا لیکن تم بھی اپنے لئے با قاعدہ دعا کرو۔تو میں حیران رہ گیا کہ دعا کا ایک یہ پہلو بھی ہے۔ایک زندہ فعال ایک آلہ کار ہے، جسے ہر شخص استعمال کر سکتا ہے۔تو اس لئے دعا کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جس طرح ایک حقیقت بنا کر پیش کیا ہے، بنا کر نہیں حقیقت دکھا کر پیش کیا ہے۔حقیقت تو یہ تھی ہی لیکن حقیقت ایسی تھی کہ دکھائی نہیں دے رہی تھی دنیا کو۔اتنا زور دیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا یہ کہ آپ تعجب کریں گے کہ گزشتہ بزرگوں کی کتابیں کی کتابیں پڑھ جائیں، ان میں اتنا زور دکھائی نہیں دے گا، اجتماعی طور پر اتنا زور دکھائی نہیں دے گا، جتنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا پر زور دیا اور اس مضمون کے ہر پہلو کوکھول کر بیان فرمایا۔تو یہ جو منصوبہ ہے، اس کی کامیابی کے لئے بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔اور ہر چیز میں دعا کے ذریعے برکت پڑے گی۔اور جب وہ برکت پڑے گی تو آپ کے ایمان میں نئی تازگی پیدا ہوگی، نیا روحانی رزق آپ کو حاصل ہوگا۔جس سے ایک نئی شخصیت وجود میں آنی شروع ہو جائے گی۔اور اس شخصیت کی ضرورت ہے جماعت کو اگلی صدی میں۔اس نئی روحانی شخصیت کو جس نے خدا کو عملاً دیکھا ہو، اس کے ساتھ ایک گہرا تعلق قائم کیا ہوتا کہ جو بہت عظیم کام ہمیں بعد میں کرنے ہیں، ان کو ہم زیادہ بہتر رنگ میں زیادہ یقین اور عزم کے ساتھ اور زیادہ کامیابی کے ساتھ سرانجام دے سکیں۔جہاں تک ملکوں کے منصوبے کا تعلق ہے، جن ممالک کے سپر دنئے ممالک کئے گئے تھے ، ان میں سے بعض نے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی محنت کی ہے اور بہت ہی اللہ تعالیٰ نے ان محنتوں کو قبولیت سے نوازتے ہوئے پھل دیا اور بہت شیریں پھل دیا۔جو فوراً آگے بیج میں تبدیل ہو گیا۔پھر اس سے بھی اچھے پھل لگے تو بعض ممالک میں تو اس تحریک سے بڑی رونق آگئی ہے اور نئے نئے ممالک احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔اور خدا کے فضل سے اکثر و بیشتر داعین الی اللہ کی محنت کا اس میں بہت دخل ہے۔اور جب نئے پودے لگ جاتے ہیں کسی ملک میں تو پھر باقاعدہ تربیت یافتہ مربیان بھی بھیجے جاتے ہیں۔پھر 534