تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 519
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 1987ء لوگ جن کے کام ہیں، وہ مصروف ہیں دن رات ان باتوں کو مزید نکھارنے اور سنوارنے پر۔اور کس طرح ان کو عمل کی شکل میں ڈھالا جائے گا، کون کیا کام کرے گا ؟ یہ تمام کام ایسے ہیں، جن پر مسلسل کام ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور اس کی تمام دنیا کی جماعتوں کو حصہ رسدی اطلاعیں دی جارہی ہیں۔بالعموم جماعت کو جو میں اس ضمن میں خاص توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ صد سالہ جو بلی کے دوران میرے دل کی تمنا یہ ہے کہ بہت سے ایسے ممالک، جہاں مقامی طور پر چند خاندان ابھی تک اسلام میں داخل ہوئے ہیں، وہاں کم سے کم سو خاندانوں کو ہم اسلام میں داخل کر لیں۔اور جہاں جماعت نافذ ہو چکی ہے، وہاں ہم یہ کہہ سکیں کہ ہر سال کے لئے ہم یہ حقیر اور عاجزانہ تحفہ پیش کرتے ہیں کہ ہم نے مقامی طور پر ایک خاندان کو داخل کر لیا ہے۔بعض ممالک میں تو خدا کے فضل سے ہزاروں خاندان داخل ہو چکے ہیں۔لیکن آپ جس ملک میں رہتے ہیں اور یورپ کے اور بہت سے ممالک ان میں بدقسمتی سے مقامی احمدیوں نے یعنی وہ لوگ جو باہر سے آکر مقامی بنے ، انہوں نے تبلیغ کی طرف پوری توجہ نہیں کی۔اور جو کام ان کو میں پچیس سال پہلے سے شروع کرنا چاہئے تھا، اسے شروع کرنے میں بہت دیر کر دی۔نتیجہ یہ نکلا کہ جس رنگ میں یہاں داعی الی اللہ بننے چاہئے تھے اور جو یہاں کے لوگ استطاعت رکھتے ہیں، اس کا عشر عشیر بھی ہم نتیجہ حاصل نہیں کر سکے۔اور یہ صورت حال صرف انگلستان پر ہی صادق نہیں آ رہی بلکہ دنیا کے اور بہت سے ممالک ہیں، یورپ کے بھی اور بعض اور جگہوں پر بھی جہاں یہی کیفیت ہے اور وقت اتنا تھوڑارہ گیا ہے کہ صرف دو سال رہ گئے ہیں۔اس لئے اب اس کام کو غیر معمولی طور پر اہمیت دے کر دوبارہ اپنے ہاتھ میں لیں۔جو لوگ داعی الی اللہ بن چکے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو بے حد مبارک فرمائے۔لیکن جو نہیں بنے ابھی تک ، ان کو فوراً توجہ کرنی چاہئے۔اور جو بن چکے ہیں، ان کو اپنے کاموں کا جائزہ لینا چاہئے کہ آیا ان کی کوششیں پھل پیدا کر بھی رہی ہیں کہ نہیں۔بعض ایسے نوجوان ہیں یا بڑی عمر کے بھی جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پورے خلوص اور تقویٰ کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دینے کے پروگرام میں شامل ہوئے اور ان کو ہر سال اللہ تعالیٰ پھل دے رہا ہے۔انہی جگہوں پر دے رہا ہے، جنہیں آپ بے پھل کی جگہیں سمجھتے ہیں۔انہی زمینوں پہ پھل دے رہا ہے، جنہیں آپ سنگلاخ سمجھتے ہیں۔اس لئے یہ بہانہ تو خدا تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوگا کہ ہم ایسے ملک میں رہتے تھے، جہاں دنیا ترستی تھی ، دنیا داری میں لوگ اتنا بڑھ گئے تھے کہ بات نہیں سنتے تھے۔بات سنانے کا ڈھنگ سیکھنا پڑے گا۔اور بات سنانے کے ڈھنگ میں خدا تعالی نے یہ ہمیں بتایا ہے کہ تقویٰ کا مضمون داخل ہے۔جتنا زیادہ تقویٰ ہو، اتناہی بات میں زیادہ اثر ہوتا 519