تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 518 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 518

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک وہ ان کے دلوں کو دہلا دینے والی شوکت ہو گی۔اس لئے کہاں ان کی طاقت، کہاں ان کی مجال کہ محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی شان کھینچ سکیں ، شان نوچ سکیں ، یہ نہیں نوچ سکتے۔یہ ملک جہاں میں اس وقت مخاطب ہو رہا ہوں آپ سے، یہ ملک بھی نئی اور دوبالا شان کے ساتھ اسلام کا حسن دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہو گا۔اور آپ ہوں گے، جو اس حسن کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہوں گے۔افریقہ بھی ایک نئی شان کے ساتھ ، نئے ولولے کے ساتھ پیش کر رہا ہو گا۔نئے روپ کے ساتھ یہ شان ایشیاء کے سارے ممالک میں دکھائی جائے گی، نئے روپ کے ساتھ یہ شان دنیا کے ہر براعظم میں دکھائی جائے گی۔اس کے لئے ، اس کی تیاری کے لئے وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔اس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ صرف مالی قربانی کافی نہیں ہے۔آپ نے خدا سے ایک عہد باندھا ہے، خدا نے آپ سے ایک عہد باندھا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اپنی جانیں بھی ہم تیرے حضور پیش کر دیتے ہیں ، ہماری نہیں رہیں، پہلے بھی تیری تھیں مگر ہم ایک اور رنگ میں اب تجھے واپس کرتے ہیں۔جس رنگ میں ہمارا غیر واپس نہیں کرتا تجھے۔یہ طوعاً کا مضمون ہے، کرھا کا مضمون نہیں۔اور دوسرے ہمارے اموال بھی تیرے ہی تھے ، اب بھی تیرے ہیں۔مگر ہم طوعا تجھے واپس کرتے ہیں، جبکہ باقی دنیا سے تو کرھا واپس لیتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے عہد کا، جس کو زندگی کے ہر پہلو میں، زندگی کے ہر عمل میں دخل ہے۔اور زندگی کا جو پہلو، جو عمل بھی اس سے متاثر ہوتا ہے، اس پر خدا کے پیار کی نظر پڑتی ہے۔یہ مضمون ہے، جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔اس لئے اپنی زندگی کے ہر پہلو کو اللہ تعالیٰ کے پیار کا مرکز بنا دیں۔ہر عمل کو ایسا حسین بنانے کی کوشش کریں کہ خدا کی محبت اور پیار اور رضا کی آنکھ اسے اس طرح دیکھ رہی ہو، جیسے آپ اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کی پیاری حرکتوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اس سلسلے میں جیسا کہ میں نے پہلے بھی گزارش کی ہے کئی مرتبہ محسوس یہ ہورہا ہے کہ اتنے زیادہ کام پڑے ہوئے ہیں کہ ہم میں استطاعت نہیں ہے، وہ کام کرنے کی۔اس لئے ایک ہی حل ہے، اس صورت حال کا کہ اپنا جو کچھ ہے، وہ خدا کے سپرد کر دیں۔جو کچھ کر سکتے ہیں، وہ سب کچھ کریں۔باقی خانے جتنے بھی خالی رہ جائیں گے ، وہ خدا خود بھرے گا۔یہ اس کا وعدہ ہے۔اس لئے اپنی طرف سے کسی قسم کی کمی نہ آنے دیں۔صد سالہ جشن میں مختلف رنگ میں جو ہم نے خدا کے حضور اپنے عاجزانہ فقیرا نہ ہدیے پیش کرنے ہیں التحیات اللہ کے مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، ان میں بہت سی باتیں ہیں، جو صد سالہ جو بلی کے پیش نظر اس سے پہلے بیان کی جاچکی ہیں۔اور بہت سی ایسی باتیں ہیں، جن پر مسلسل غور ہورہا ہے۔اور وہ 518