تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 512
خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم باقی بہت ساری جماعتیں ہیں، جو پردہ پوشی کی مستحق ہیں۔اور کچھ اس وجہ سے پیچھے رہ گئی ہیں کہ وہاں ہمارے مبلغ یا مضبوط نظام جماعت کا قیام نہیں ہے۔اب توجہ ہو رہی ہے کہ سب جگہ جماعتی نظام کو مزید تقویت دی جائے۔امید ہے، انشاء اللہ تعالیٰ صرف اس خطبہ کا وہاں پہنچ جانا ہی کافی ہوگا اور وہ اپنی گزشتہ کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جو خاص طور پر ساری دنیا میں سب سے آگے بڑھنے والی جماعت ہے، وہ کون سی ہے۔اور وہ غانا ہے، ماشاء اللہ۔غانا میں 93۔63 فیصد وصولی ہوئی ہے۔جو دنیا کی اور کسی جماعت میں نہیں ہوئی۔اور خاص خوبی کی بات یہ ہے کہ جتنی غربت گزشتہ دو تین سال میں غانا نے دیکھی ہے، جتنی فاقہ کشی غانا میں پڑی ہے، بہت کم ملکوں میں ایسا واقعہ ہوا ہوگا۔بعض دفعہ ایسے واقعات بھی ہوئے کہ ہمارا مبلغ دروازہ کھٹکنے پر باہر گیا تو جو دروازہ کھٹکانے والا تھا، وہ اس کے پہنچتے پہنچتے بھوک سے بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا تھا اور بڑی مشکل کے ساتھ مبلغین کو ایسے درد ناک حالات میں گزارہ کرنا پڑا ہے کہ بڑا حوصلہ ہے ان کا۔خود بھی بہت کم ملتا تھا ان کو ، اس کے باوجود پھر غریبوں کے ساتھ جو کچھ خدا نے ان کو دیا ہے، اسے بانٹ کر کھانا ، بڑی ہمت کی بات ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص میں ایسی برکت ڈالی ہے، ان کو ایسی شجاعت عطا فرمائی ہے کہ ہر سال مالی قربانی میں وہ آگے بڑھتے ہیں، پہلے سے۔اور پتہ نہیں کہاں سے لے کے آتے ہیں، کس طرح خدا ان کو توفیق بخشتا ہے، یہ اسی کے راز ہیں۔مگر بہر حال جو ملک اقتصادی لحاظ سے دنیا میں سب سے پیچھے رہنے والے ملکوں میں سے تھا، جس کے متعلق خطرہ ہو سکتا تھا کہ یہاں چار، پانچ فیصد وصولی ہو گی، وہ دنیا میں سب سے آگے بڑھ گیا ہے۔اور اس میں آپ کے لئے ایک تقویت کا مزید پیغام ہے کہ اللہ کی توفیق سے ہی ہوتا ہے، جو ہوتا ہے۔امریکہ جو اقتصادی لحاظ سے سب سے آگے ہے، اس کی وصولی 44 فیصد ہے اور غانا جو سب سے پیچھے ہے، احمدی ممالک میں، اس کی وصولی 93۔63 فیصد۔تو ایں سعادت بزور بازو نیست۔اللہ کی طرف سے توفیق ملتی ہے تو انسان سرخرو ہوتا ہے نیک کاموں میں اور اپنے وعدوں میں توفیق نہ ملے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔اس لیئے میں اسی پر اس بات کو ختم کرتا ہوں۔لیکن ایک اور چھوٹی سی بات کہنے والی ہے، اسی ضمن میں مالی امور سے تعلق رکھنے والی کہ جو فہرست اس وقت میرے سامنے ہے، اس کے بعد بہت سے نئے ممالک میں احمدیت پھیلی ہے۔اور بہت سے ایسے ممالک ہیں، جہاں مبلغ نہیں ہیں مگر احمدیت موجود ہے۔1989ء سے پہلے جو ہمارا جو بلی کا سال ہوگا، انشاء اللہ اس سے پہلے کوشش یہ کرنی چاہئے کہ ہمارے وعدہ دہند ممالک سو ہو جائیں۔یعنی صرف یہ نہیں کہ وعدہ ہو بلکہ سو ممالک کی طرف سے وعدہ ہو۔اس لئے جہاں جہاں 512