تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 40
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 مئی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم جب تم اپنا فریضہ ادا کر دو گے، جب تم سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دو گے۔پھر فرمایا: فاذا قضيت الصلوة، قضيت الصلوۃ، کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جب عبادت کے تقاضے پورے ہو جائیں، جب تم اپنی نیتیں پوری کر دکھاؤ گے اور لبیک کہ دو گے، فانتشروافي الارض وابتغوامن فضل الله واذكروا الله كثير العلكم تفلحون۔پھر خدا تعالی تمہیں تمام دنیا میں پھیلا دے گا۔زمین کے کناروں تک تمہیں پہنچائے گا۔وہاں دنیا کے لحاظ سے بھی فضل جوئی کرو گے اور دین کے لحاظ سے بھی فضل جوئی کرو گے۔بظاہر تم دنیا کے کاموں کے لئے بھی نکلو گے لیکن اللہ کے ذکر کے ساتھ نکلو گے۔اگر تم صناع ہو تو صناعی کے ساتھ ذکر الہی بلند کر رہے ہو گے، اگر تم تاجر ہو تو اپنی تجارتوں کے ساتھ ذکر الہی بلند کر رہے ہو گے، اگر تم ڈاکٹر ہو تو اپنی ڈاکٹری کے ساتھ ذکر الہی بلند کر رہے ہو گے، اگر تم سائنسدان ہو تو سائنس کے کاموں کے ساتھ ذکر الہی کو بلند کر رہے ہو گے۔غرضیکہ تمام دنیا میں ذکر پھیلانے کا ایک ذریعہ یہ ہوگا۔پس اس آیت میں کئی قسم کے وقف کا ذکر ہے۔ایک وقف خاص بھی مذکور ہے کہ دنیا کے سب کام کلیۂ چھوڑ کر جب آواز آئے تو اپنی ساری زندگی خدا کے حضور پیش کر دو۔دوسرا وقف عام کا بھی ذکر ہے کہ یہ فیصلہ کر لو کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔دنیا کو چھوڑ کر دین کی آواز پر لبیک کہنے کا یہ مطلب ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو شرائط بیعت ہیں ، ان میں یہ داخل ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔تو اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جب خدا کے نام پر بلانے والا تمہیں عظیم جمعہ کے لئے بلائے تو تم یہ فیصلہ کر کے اس کے حضور حاضر ہو کے ہم دنیا کو ترک کر دیں گے اور جب بھی دین کے ساتھ مقابلہ ہوگا تو دین کو ترجیح دیں گے۔فرمایا: جب تم یہ عہد کر کے اس کے حضور حاضر ہو جاؤ گے، پھر تمہیں اس شرط کے ساتھ اجازت مل جائے گی کہ چونکہ تم سب کچھ خدا کو دے بیٹھے ہو، اب تمہارا کچھ نہیں رہا۔اس لئے اب تم جاؤ اور پھیلو اور دنیا کے کام بھی کرو لیکن اس عزم کے ساتھ کہ دنیا کے کاموں کے ساتھ ذکر الہی کو نہیں بھولنا بلکہ اسے غالب رکھنا ہے۔اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا: و ابتغوا من فضل اللہ کے فضل کو ڈھونڈو واذكروا الله كثيرًا وابتغوا کے ساتھ کثیر کا لفظ استعمال نہیں کیا لیکن واذكرو الله کے ساتھ کثیرا کا لفظ استعمال فرمایا۔دنیا کے کام کرونگر ذکر الہی غالب رہے۔اللہ کی محبت اور پیار تمہارے دنیا کے ہر ایک کام پر چھا جائے اور اسے مغلوب کر لے۔چونکہ ابتغاء فضل دنیا کے معنوں میں بھی مراد ہے، اس لئے میں یہ معنی 40